اوڑھنی والیوں کے لئے پُھول — Page 300
300 سکتا ہے۔جن لوگوں سے ہمیں اختلاف ہے وہ کہتے ہیں کہ رسول کریم ﷺ کے بعد کوئی نبی نہیں آئے گا۔یہ دو موٹے اور اہم اختلاف ہیں۔اس کے علاوہ ہم میں اور اُن میں بہت سے اختلاف ہیں۔مثلاً ایک احمدی کہتا ہے آنیوالا باہر سے نہیں آئے گا بلکہ ہم سے ہی ہوگا۔غیر احمدی کہتے ہیں کہ آسمان سے آئیگا۔احمدی کہتے ہیں قرآن پر چل کر انسان وہ انعامات حاصل کر سکتا ہے جن کا قرآن میں ذکر ہے۔غیر احمدی کہتے ہیں قرآن مجید خواہ کیا بتائے لیکن جو ہمارے عقیدے ہیں وہی درست ہیں۔ان کے دل میں قرآن کریم کی اتنی عظمت نہیں جتنی اُن کے اپنے خیال کی لیکن بہت کم عورتیں ان مسئلوں پر غور کرتی ہیں۔صرف چند عورتیں ہیں جو ان مسئلوں کو جانتی ہیں یا ان کو اچھی طرح بجھتی ہیں اسی وجہ سے وہ دوسری عورتوں کے سامنے ٹھہر نہیں سکتیں۔اگر ہماری عورتیں ان مسئلوں کو سمجھ لیں تو پھر کوئی عورت ان کے مقابلہ پر ٹھہر نہیں سکتی۔پس راستہ اختیار کرنے میں ہماری غلطی نہیں۔اگر نتیجہ نہیں نکلتا تو عمل کی غلطی ہے۔مثلاً اگر قرآن شریف کوئی اپنے سامنے انٹار کھلے اور اُلٹا ہونے کی وجہ سے نہ پڑھا جائے تو کیا قرآن غلط ہے یا پڑھنے والے کی اپنی عقل؟ پس اسی طرح پر احمدی عورت جان لے کہ عیسے کے متعلق قرآن شریف میں اور حدیث میں صفائی سے یہ موجود ہے کہ عیلئے جو پہلے تھے وہ دوبارہ نہیں آئیں گے بلکہ آنے والا اس امت میں سے ہوگا۔پس پہلی چیز جس کو دیکھنا ہے وہ ہے کہ خدا کا کلام اور اس کے رسول کا کلام کیا بتا تا ہے۔رسول کریم کے ارشادات کو وہی لوگ جان سکتے تھے جنہوں نے اپنی زندگیاں رسول کریم ﷺ کی خدمت میں گزاریں یعنی صحابہ رسول کریم۔جیسا کہ حدیثوں سے ثابت ہے رسول کریم ﷺ کی وفات کے بعد صحابہ میں ایک شور پڑ گیا کیونکہ رسول کریم ﷺ کی وفات اچانک ہوئی۔ان صحابہ کو خبر نہ تھی کہ آپ کی وفات اس قدر جلدی ہو جائے گی۔وفات کے قریب حضور انور ﷺ پر یہ سورۃ نازل ہوئی۔إِذَا جَاءَ نَصْرُ الله وَالْفَتْحُ وَرَأَيْتَ النَّاسَ يَدْخُلُونَ فِي دِينِ اللَّهِ أَفْوَاجاه فَسَبِحْ بِحَمْدِ رَبِّكَ وَاسْتَغْفِرُهُ، ط إِنَّهُ كَانَ تَوَّاباً ٥ یعنی اے لوگوں! جب تم دیکھو کہ لوگ فوج در فوج اسلام میں داخل ہونے لگ گئے تو خدا تعالیٰ کی تسبیح کرو ساتھ حمد اپنے رب کی اور غفران و حفاظت مانگمو یقینا وہ ہے رجوع برحمت ہونے والا۔یعنی نبی کریم ﷺ کو بتلا یا کہ تو خدا کے قرب میں حاضر ہونے والا ہے اور کامیابی کا زمانہ آ گیا۔اس پر صحابہ بہت خوش ہو گئے مگر حضرت