اوڑھنی والیوں کے لئے پُھول — Page 301
301 ابو بکر صدیق رضی اللہ تعالیٰ عنہ رو پڑے اور اس قدر روئے کہ گھنگی بندھ گئی۔پھر حضرت ابو بکر صدیق سنبھل کر بیٹھ گئے اور کہنے لگے یا رسول اللہ ! ہم اپنی جانیں، اپنے ماں باپ اپنے بیوی بچوں کی جو نہیں قربان کرنے کو تیار ہیں۔لوگ حیران تھے اور کہتے تھے کہ بڑھے کی عقل کو کیا ہو گیا ہے لیکن رسول کریم ﷺ نے فرمایا اس کو ابو بکر نے خوب سمجھا۔رسول کریم حضرت ابوبکر سے بہت محبت کرتے تھے۔چنانچہ رسول کریم ﷺ نے فرمایا کہ مجھے سب سے زیادہ پیارا ابو بکر ہے۔اگر خدا کے سوا کسی کو خلیل بنانا جائز ہوتا تو ابوبکر کو بناتا۔پھر آپ نے فرمایا سب کھڑکیاں بند ہو جائیں گی صرف ابو بکر کے لئے کھڑ کی کھلی رہے گی۔ایسا فرمانا بطور پیشنگوئی کے تھا کہ ابوبکر خلیفہ ہوکر نماز پڑھانے کی کھڑکی سے مسجد میں داخل ہوا کریں گے۔پس رسول کریم ﷺ کو جو محبت حضرت ابو بکر سے تھی اور جو ابو بکر کو رسول کریم سے تھی اس سے پتہ چلتا ہے کہ حضرت ابو بکر کا درجہ کس قدر بلند تھا لوگوں نے حضرت ابو بکر سے پوچھا کہ آپ اس بشارت نصرت پر کیوں روئے۔آپ نے کہا خدا کے نبی دین پھیلانے کے لئے آتے ہیں۔جب دین کی ترقی ہو گئی تو آپ بالضرور اپنے مولی کے حضور واپس چلے جائیں گے۔اسی لئے حضرت ابو بکر نے قرآن کی یہ آیت سنکر کہا کہ یا رسول اللہ ہماری جانیں ، ہمارے ماں باپ کی جائیں ہمارے بیوی بچوں کی جانیں آپ کی جان پر قربان ہوں۔اب اس سے اندازہ لگایا جاسکتا ہے کہ حضرت ابو بکر صحابہ میں سب سے بہتر قرآن مجید کو سمجھنے والے تھے۔رسول کریم ﷺ کی جب وفات ہوئی تو اُس وقت حضرت ابو بکر صدیق باہر تھے۔حضرت عمر کو جب علم ہوا کہ رسول کریم ﷺ فوت ہو چکے ہیں تو آپ میان سے تلوار نکال کر کھڑے ہو گئے اور کہا کہ اگر کوئی کہے کہ رسول کریم ﷺ فوت ہو گئے تو میں تلوار سے سر اُڑا دوں گا۔رسول کریم فوت نہیں ہوئے ہیں بلکہ اللہ تعالیٰ سے ملنے گئے ہیں جیسا حضرت موسئے اللہ تعالیٰ سے ملنے گئے تھے اور حضرت عمرؓ کی اس بات کا اثر تمام مسلمانوں پر ہوا۔ایک صحابی مسلمانوں کی حالت دیکھ کر بہت گھبرائے ، وہ بہت سمجھدار تھے انہوں نے کہا دوڑ کر جاؤ اور حضرت ابو بکر کو خبر کر دو کہ مسلمان بگڑ رہے ہیں جلدی آئیں۔پس ابو بکر جو اتفاق سے باہر گئے ہوئے تھے فورا پہنچے اور آپ کے پاس گئے اور کپڑا چہرے پر سے ہٹا یا زیارت کی اور کہا میرے ماں باپ آپ پر فدا ہوں خدا تعالی آپ پر دو موتیں وارد نہیں کرے گا۔ایک آپکی موت اور دوسری قوم گمراہ ہو۔ہر چند ابو بکر کمزور اور نرم مزاج آدمی تھے۔حضرت عمر جو تلوار لئے کھڑے تھے ان کے پاس آئے اور کہا اے عمر بیٹھ جاؤا لیکن حضرت عمر جوش میں آکر پھر کھڑے ہو جاتے۔