اوڑھنی والیوں کے لئے پُھول — Page 254
254 صلى الله جارہے ہیں۔یعنی ذہنی اور روحانی غلامی اختیار کر رہے ہیں اور ہم جو پردہ ضروری سمجھتے ہیں اس سے آزاد ہیں کیونکہ ہم اس تہذیب کے سخت مخالف ہیں جسے وہ اپنی ترقی کا ذریعہ سمجھتے ہیں اور ظاہری غلامی ہمارے نزدیک کوئی چیز نہیں۔ظاہری حکومت آخر کسی نے تو کرنی ہے۔اگر ہندوستانیوں کی اپنی حکومت ہو تو بھی کیا سارے ہی حکمران ہوں گے ایک حصہ ہی حکومت کریگا پس ظاہری غلامی کوئی چیز نہیں۔غلامی دراصل دماغی خطرناک ہوتی ہے۔پس پردہ چھوڑنے والے پورے طور پر یورپ کے غلام بنتے جارہے ہیں۔لیکن پردہ جس کے متعلق کہتے ہیں کہ اس نے اسے زوال تک پہنچایا اسے مسلمانوں نے اختیار کرنے کے باوجود تمام دنیا کو فتح کر لیا تھا۔رسول کریم نے کی بیویاں پردہ کرتی تھیں مگر جنگوں میں شامل ہوتی تھیں۔جنگ صفین میں حضرت عائشہ خود کمان کرتی رہیں بڑے بڑے جرنیل بھی اس وقت پیچھے ہٹ گئے مگر وہ برابر میدان میں موجود ہیں۔پس اپنا نقص کسی اور طرف منسوب کرنا حماقت ہے یہاں قادیان میں پردہ ہے مگر یہاں کی عورتیں دوسری اقوام کی عورتوں کی نسبت زیادہ پڑھی ہوئی ہیں۔میں نے ایک دفعہ معلوم کرایا تو پڑھ لگا کہ ان پڑھ لڑکیاں بہت کم ہیں مگر ان پڑھ لڑ کے بہت زیادہ ہیں مگر پردہ با قاعدہ ہے۔پھر کئی ایک لڑکیاں مولوی کا امتحان دے چکی ہیں، کئی نے انٹرنس کا امتحان پاس کر لیا ہے اور اب ایف۔اے کی تیاری کر رہی ہیں۔اس کے مقابلہ میں ان میں جو پردہ کی مخالف ہیں ابھی تک وہی جہالت اور تاریکی پھیلی ہوئی ہے۔بے شک اُن کے پاس سامان زیادہ ہیں اور اگر وہ کوشش کریں تو ہم سے بڑھ جائیں گی لیکن ان کی ترقی مال و دولت کی وجہ سے ہوگی نہ کہ پردہ چھوڑنے کی باعث۔پھر یہ بھی دیکھنا چاہیئے کہ پردہ چھوڑنے والوں کو حکومت کی امداد بھی حاصل ہے۔گورنر صاحب کی بیوئی پردہ کی سخت مخالف تھیں حتی کہ انہوں نے پر دو کلب میں جانا ترک کر دیا تھا کیونکہ وہ اسے بنک بجھتی تھیں اور بہت سے مسلمانوں کی بیویوں نے محض اس وجہ سے پردہ ترک کر دیا کہ لاٹ صاحب کی بیوی کی ملاقات سے محروم نہ رہ جائیں۔ہماری جماعت کے لوگوں کو یاد رکھنا چاہئے کہ ہمارا کام صرف وفات مسیح ہی منوانا نہیں۔بے شک یہ بھی بہت ضروری ہے مگر یہ روئیں جو چل رہی ہیں دہریت کی اور اسلامی احکام سے روگردانی کی اور یہ کہ اسلام نے عورتوں کو حقوق نہیں دیئے ان کا مقابلہ کرنا بھی ہمارا فرض ہے اور اس کا بہترین طریق یہ ہے کہ عورتوں کی تعلیم کا پورا انتظام کریں۔اگر ان عورتوں سے جو اسلامی احکام کی خلاف ورزی کرنے پرتلی ہوئی ہیں ہم خود