اوڑھنی والیوں کے لئے پُھول

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 245 of 452

اوڑھنی والیوں کے لئے پُھول — Page 245

245 اب حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی پیرو اگر دوسرے غیر احمدی سے بیاہی گئی تو خاوند کی وجہ سے یقیناً وہ احمدیت سے دُور ہو جائے گی یا گوھ گڑھ کر مر جائے گی اپنے رشتہ دوروں سے الگ کی جائے گی بوجہ تعصب مذہبی کے تو یہ ایک آگ ہے۔کیا وہ خود اپنے ہاتھ سے اپنی بیٹی کو آگ میں ڈالتی ؟ مگر اس طرح ایک تھوڑے سے تعلقات کے لئے اُسے دائمی آگ میں ڈال دیا۔پس اس سے بچو۔مسیح موعود کے آنے پر جو تفرقے اُٹھے یہ پہلے ہی تھے نئے نہیں۔لیکن اگر تم قربانیاں کرو تو دوسروں کو تحریک ہو کہ اس طرح یہ تفرقے مٹ سکتے ہیں۔مثلاً احمدی ہو کر غیروں سے رشتے نہ کرو اپنا نمونہ اچھا دکھاؤ تو اُن کو بھی ترغیب ہو اور اگر احمدی ہو کر بھی تم اُن سے رشتے برابر قائم رکھتی ہو تو وہ کہتے ہیں کہ رشتے تو ہم کو یوں بھی مل جاتے ہیں پھر احمدی ہو کر کیا کرنا۔یادرکھو کہ یہ قومی گناہ ہے اگر تم ان سے بکلی ایسے تعلقات قطع کرلو اور خدا کے لئے اس قربانی کو اختیار کرو تو ادھر تو خدا خودان رشتہ داروں کی بجائے تم کو بہتر رشتے دے گا اور پھر تمہارے اس استقلال کے صلے میں تمہارے وہ رشتہ دار بھی واپس ملا دے گا مگر شرط یہی ہے کہ تم استقلال کو ہاتھ سے نہ دو۔یہ مت سمجھو کہ خدا تمہیں ہمیشہ کے لئے جدا ہی رکھے گا۔نہیں ہرگز نہیں۔وہ تمہیں ملائے گا اور دائی طور پر ملائے گا وہ تمہارا استقلال دیکھتا ہے۔پس اپنے تعلقات خدا کے لئے قطع کرو اور راضی برضاء ہوتا تمہارے رشتہ دار بھی تم سے بالآخر دائی مل جائیں۔میں نے ایک دفعہ خواب میں دیکھا کہ کبڈی ہو رہی ہے احمدی اور غیر احمدی دو پارٹیاں ہیں، احمدیوں کی پارٹی فریق مخالف کو پکڑ پکڑ کر لا رہی ہے یہاں تک کہ سب ختم ہو گئے۔فریق مخالف میں سے صرف ایک بڑا سا آدمی رہ گیا جو دیوار کے ساتھ لگ کر رینگتا ہوا آخر احمد یوں میں مل کر کھڑا ہو گیا اور کہنے لگا کہ جب سارے ادھر آگئے تو میں تنہا اُدھر کیا کروں۔اس میں تمہارے لئے سبق ہے کہ اللہ تعالیٰ کا اٹل فیصلہ ہے کہ وہ تمہارے رشتہ داروں کو تم سے ملا کر لائے گا لیکن اگر تم خود اس کے فیصلوں کو توڑ کر یہ قرابتیں قائم کرو تو یاد رکھو کہ ہمیشہ کے لئے وہ تم سے دور کئے جائیں گے کیونکہ تمہارا یہ فضل خدا تعالیٰ کی مرضی کے خلاف ہوگا۔پس اُس کی ناراضگی ہمیشہ کے لئے تمہیں جدا کر دے گی۔حضرت عمرؓ کے متعلق آیا ہے کہ وہ آنحضرت ﷺ کے نہایت سخت مخالف تھے اتنے سخت کہ ایک مرتبہ اپنی ایک لونڈی کو محض اسلام لانے کی وجہ سے اتنا مارا کہ اُس کی آنکھیں ضائع ہوگئیں اور ایک دفعہ جب آنحضرت