اوڑھنی والیوں کے لئے پُھول

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 216 of 452

اوڑھنی والیوں کے لئے پُھول — Page 216

216 پس نیت اور ارادہ ہی ایک ایسی چیز ہے جو انسان کو ہر فعل اور ہر مقصد میں کامیاب کرتا ہے۔اس وقت میں خواتین کو اس امر کی طرف توجہ دلاتا ہوں کہ حضرت آدم علیہ السلام سے لے کر تمام کے تمام انبیاء اس بات کی خبر دیتے آئے ہیں کہ آخری زمانہ میں ایک بہت فتنہ اٹھے گا۔ایک آدمی اگر صبح مسلمان ہوگا تو شام کو کافر، رات کو مسلمان سوئے گا تو صبح اُٹھے گا کافر، سو آج اسلام کی نہایت درد ناک اور نازک حالت ہے۔تمام مذاہب اسلام ہی کے کچل ڈالنے کے درپے ہیں۔لیکن میں دیکھتا ہوں انسان گھر کے پالتو سکتے یا پالتویلی کی پروا کرتا ہے لیکن آج اسلام کی اتنی بھی پرواہ نہیں۔حضرت مسیح موعود علیہ السلام فرماتے ہیں۔بیکسے شد دین احمد پیچ خویش و یار نیست کسے درکار خود با دین احمد کار نیست حضرت مسیح موعود علیہ السلام فرمایا کرتے تھے ایک بزرگ نے رویا میں دیکھا بھوپال کے شہر میں ایک کوڑھی ہے جس کا کوئی بھی عضو جسم پر صیح نہ تھا۔اس کو پوچھا کہ تو کون ہے تو اُس نے جواب دیا کہ میں اللہ میاں ہوں۔وہ بہت پریشان ہوئے کہ اللہ میاں تو مستجمع جمیع صفات حسنہ کاملہ ہے یہ اللہ میاں کیسا؟ کوڑھی نے کہا میں بھو پال والوں کا خدا ہوں انہوں نے مجھے ایسا ہی سمجھ لیا ہے۔مگر اس زمانہ میں جو بھو پال کے خدا کی شکل دکھائی گئی تھی وہی آج تمام دنیا کے خدا کی ہے۔ایران کیا، ترکستان کیا ، افغانستان کیا، غرض دنیا میں آج اسلام ایسا سمجھا گیا ہے جیسے کلنک کا ٹیکہ ہوتا ہے۔اسلام کا وہ نام جو عزت سے لیا جاتا تھا آج اس میں شامل ہونے کو ہتک خیال کیا جاتا ہے۔یہ صرف مسلمانوں کے اسلام کو چھوڑ دینے کی وجہ سے ہے۔شہروں میں آوارہ گرد مسلمان ، سواتی مسلمان ، جیل میں زیادہ مسلمان عورت و مرد، فاحشہ عورتیں جس قدر ہوتی ہیں مسلمان شہروں میں غنڈے بدمعاش اکثر مسلمان، ملازموں میں کام چور مسلمان بددیانت مسلمان تو مسلمانوں کو اللہ تعالیٰ کی طرف سے ایسی ذلت پڑ رہی ہے کہ ہر صورت میں ذلیل ہورہے ہیں صرف اس لئے کہ مسلمان سمجھ بیٹھے ہیں ، اگر اسلام سچا ہے تو ہم ذلیل کیوں اور ہے ہیں، غیر قو میں کہتی ہیں کہ مسلمان نیچے ہیں تو ڈلیاں کیوں ہیں لیکن یہ ساری ذمہ داری مسلمانوں پر آتی ہے۔مسلمانوں نے اسلام کو چھوڑ دیا تو ذلیل ہوئے۔