اوڑھنی والیوں کے لئے پُھول

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 202 of 452

اوڑھنی والیوں کے لئے پُھول — Page 202

202 جائز ہوتا تو یہ سوال بھی پیدا نہ ہوتا۔اسی طرح حدیثوں میں آتا ہے کہ رسول کریم ﷺہ ایک دفعہ اپنی ایک بیوی کے ساتھ جن کا نام صفیہ تھا شام کے وقت گلی میں سے گزر رہے تھے آپ نے دیکھا کہ دو آدمی سامنے سے آ رہے ہیں اور آپ کو کسی وجہ سے شبہ ہوا کہ اُن کے دل میں شاید یہ خیال ہو کہ میرے ساتھ کوئی اور عورت ہے آنحضرت ﷺ نے اپنی بیوی کا چہرہ نگا کر دیا کہ دیکھ لو یہ صفیہ ہے اگر منہ کھلا رکھنے کا حکم ہوتا تو اس قسم کے خطرہ کا کوئی احتمال نہیں ہوسکتا تھا۔اسی طرح حضرت عائشہ کے متعلق آتا ہے کہ جب وہ جنگ صفین میں فوج کولڑا رہی تھیں اور اُن کی ہورج کی رسیوں کو کاٹ کر گرا دیا گیا تھا تو ایک خبیث الطبع خارجی نے اُن کے ہو رج کا پردہ اٹھا کر کہا تھا کہ او ہو یہ تو سرخ و سفید رنگ کی عورت ہے۔اگر رسول کریم نے کی بیویوں میں منہ کھلا رکھنے کا طریق رائج ہوتا تو جب حضرت عائشہ ہودج میں بیٹھی فوج کولڑا رہی تھیں اُس وقت وہ اُنہیں دیکھ چکا ہوتا اور اس کے لئے کوئی تعجب کی بات نہ ہوتی۔اسی طرح بہت سے ایسے واقعات ملتے ہیں کہ بعض طبقات کی عورتوں کے لئے مُنہ کو جس قدر ہو سکے چھپانے کا ہی حکم ہے۔قرآن کریم کی ایک آیت بھی اس بات پر دلالت کرتی ہے وَلَيَضْرِبَنَّ بِخُمُرِهِنَّ عَلَى جُيُوبِهِنَّ یعنی اپنے سر کے رومالوں کو کھینچ کر اپنے سینوں تک بلے آیا کریں۔خمار کسی چادر یا دوپٹے کا نام نہیں ہے بلکہ اس رومال کا نام ہے جو کام کرتے وقت عورتیں سر پر رکھ لیا کرتی ہیں۔پس اس کے یہ معنی نہیں کہ دو بیٹے کی آنچل کو اپنے سینوں پر ڈال لیا کریں کیونکہ خمار کی آنچل نہیں ہوتی چھوٹا ہوتا ہے اس کے یہ معنی ہیں کہ سر سے رو مال کو اتنا نیچا کرو کہ وہ سینے تک آجائے جس کے معنے یہ ہیں کہ سامنے سے آنے والے آدمی کو منہ نظر نہ آئے۔پردے کا سوال ایک حد تک عورتوں اور مردوں کے ملنے جلنے کے ساتھ بھی تعلق رکھتا ہے۔اس کے متعلق قرآن وحدیث سے یہی معلوم ہوتا ہے کہ پردے کے قواعد کو مد نظر رکھتے ہوئے عورت ہر قسم کے کاموں میں مردوں کے شریک حال ہو سکتی ہے۔وہ مردوں سے پڑھ سکتی ہے، لیکچر سن سکتی ہے، پیکچر بنا سکتی ہے، مجالس وعظ اور لیکچروں میں مردوں سے الگ ہو کر بیٹھ سکتی ہے، ضرورت کے موقعہ پر اپنی رائے بیان کر سکتی اور بحث کر سکتی ہے۔ایسے امور جن میں عورتوں کا دخل ہے اُن امور میں عورتوں کا مشورہ لینا بھی ضروری ہے۔عورت حاجت کے وقت مرد کے ساتھ مل کر بیٹھ سکتی ہے جیسے کہ رسول کریم نے نے فرمایا کہ کوئی مخلص سوار چار ہا ہو اور عورت ہو تو اس عورت کو اپنے پیچھے بیٹھا لے۔ہمارے ملکی رواج کے مطابق اگر کوئی شخص ایسا