اوڑھنی والیوں کے لئے پُھول — Page 13
13 مجھے یاد آ گئیں۔اُس نے وہی باتیں جو پہلے بتا ئیں تھیں بیان کر دیں۔قاضی نے روپیہ نکال کر اسے دیدیا اور کہا تم نے مجھے یہ پہلے کیوں نہ بتا دیا ور نہ اُسی وقت دید تا۔باتیں تو اس نے پہلے بھی یہی بتا ئیں تھیں لیکن اب چونکہ قاضی کو یہ معلوم ہو گیا تھا کہ اُس کا بادشاہ سے تعلق ہے اُس نے روپے نکال کر دے دیئے تو جب دنیاوی بادشاہ کے ساتھ جس کا تعلق ہو اُسے کوئی دُکھ نہیں دے سکتا تو جس کا خدا تعالیٰ سے تعلق ہوگا اُسے دُکھ دینے کی کس میں طاقت ہے؟ پس تم یہ کوشش کرو کہ خدا تعالی تمہارا ہو جائے۔خدا تعالی فرماتا ہے کہ جو کوئی دین سکھے اور دوسروں کو سکھائے میں اُس کا ہو جاتا ہوں۔تم یاد رکھو کہ دنیا کی تمام مصیبتوں سے بچنے اور کامیابیوں کے حاصل کرنے کا یہی ایک گھر ہے۔اللہ تعالی ہر ایک کو اس کی توفیق دے۔آمین۔الفضل ۳۳۔جولائی ۱۹۱۵ء ) حضرت امیر المومنین خلیفہ مسیح الثانی کا مستورات میں وعظ بمقام شملہ فرموده ۶ - اکتوبر ۱۹۱۷ء عورتوں کو ضروری نصیحت عورتوں کے متعلق سب سے پہلی اور سب سے بڑی نصیحت جو انہیں کرنے کی ضرورت ہے وہ انہیں اس زمانہ میں اس بات کی طرف متوجہ کرتا ہے کہ دین کے معاملہ میں وہ اسی طرح شریعت کے قانون کی پابند ہیں اور اسی طرح شریعت کے قانون پر عمل کریں کہ جس طرح مرد کرتے ہیں۔یہ ایک بڑی مشکل ہے جو اس زمانہ میں ہمیں پیش آئی ہے کہ عورتوں کے ذہن میں یہ بات بیٹھ گئی ہے که وه دینی معاملات میں حصہ لینے کے قابل نہیں ہیں۔بہت سی عورتیں ہیں جو بجھتی ہیں کہ دین کے معاملات میں حصہ لینا اُن کے خاوندوں کا کام ہے اسی وجہ سے اس زمانہ میں عورتوں کا مذہب کوئی مستقل مذہب نہیں رہا۔سومیں سے پچانوے عورتیں بلکہ اس سے زیادہ ایسی ملیں گی جنہوں نے کسی مذہب کو اس کے بچے ہونے کی وجہ سے قبول نہیں کیا بلکہ خاوندوں کی وجہ سے قبول کیا ہے۔مرد اگر آج شیعہ ہے تو عورت بھی شیعہ ہے، مردا گرسکتی ہے تو عورت بھی سنی ہے کل کو اگر مرد شیعہ سے سکی ہو گیا تو عورت بھی سنی ہو جاتی ہے اور جس طرح اُس کے خاوند کے مذہب میں تبدیلی ہوتی ہے اسی طرح اُس کا اپنا مذ ہب بھی بدلتا رہتا ہے لیکن اس جہالت اور خام خیالی کی وجہ سے عورتوں میں مذہب نہیں رہا دیکھو اگر شیر کی تصویر ہو تو انسان اُس سے ڈرتا