اوڑھنی والیوں کے لئے پُھول

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 12 of 452

اوڑھنی والیوں کے لئے پُھول — Page 12

12 ایک ایسی جماعت ہو جولوگوں کو خیر کی طرف بلائے اور معروف کے ساتھ حکم دے اور منکر سے منع کرے اور یہ وہ لوگ ہیں جو کامیاب ہو جائیں گے۔یعنی ایسی جماعت اپنے ہر مقصد میں کامیاب ہوگی۔اب جتلاؤ کون نہیں چاہتا کہ میں کامیاب ہو جاؤں۔اللہ تعالی فرماتا ہے کہ اگر تم دین کی اشاعت اور تبلیغ کروگی تو میں تمہیں کامیاب کروں گا۔لوگ مال کی تلاش میں عمریں گنوا دیتے ہیں لیکن بالآخر وہ بھی کام نہیں آتا ، دوست اور رشتہ داروں کے لئے جان تک قربان کر دی جاتی ہے لیکن اکثر وہ بھی کوئی مدد نہیں کر سکتے۔اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ دنیا میں کئی تکلیفیں آتی ہیں ، باپ، بھائی ، بیٹے ، خاوند پر مصیبتیں نازل ہوتیں اور اس طرح تمہیں کئی دکھ اٹھانے پڑتے ہیں لیکن جو اللہ تعالی کے لئے ہو جاتا ہے اللہ تعالی اُس کا ہو جاتا ہے اور اس پر جو مصیبت آتی ہے اول تو خدا تعالی اُسے ٹال دیتا ہے اور اگر وہ اٹل ہو تو اس کا نعم البدل عطا کر دیتا ہے پس ایسی عورتوں کو دین بھی مل جاتا ہے اور دنیا بھی کیونکہ جس طرح جو بادشاہ کا دوست ہو جائے اُسے کوئی دکھ نہیں پہنچا سکتا اسی طرح جس کا تعلق خدا تعالیٰ سے ہو جائے اُس کو بھی کوئی تکلیف نہیں دے سکتا خواہ اس کو کھانے کو کچھ بھی نہ ملے تو بھی ساری دنیا کے بادشاہ مل کر اُس کا بال بیکا نہیں کر سکتے۔ایک فقیر کی نسبت لکھا ہے کہ بادشاہ نے کہا کہ اس سفر سے واپس آکر قتل کروں گا۔جب وہ لوٹ کر آرہا تھا تو اس فقیر کے مریدوں نے اُسے کہا کہ اب تو بادشاہ قریب آ گیا ہے۔اسنے کہا۔ہنوز دتی دُور است۔یہاں تک کہ وہ شہر میں داخل ہو گیا تو بھی اس نے یہی کہا۔آخر وہ آتے آتے ایک دیوار کے گرنے سے نیچے دب کر مر گیا اور اس فقیر کو اللہ تعالی نے بچالیا۔تو جو کوئی خدا تعالی کے لئے ہو جائے اُس کو کوئی نقصان نہیں پہنچا سکتا۔ایک قصہ لکھا ہے ایک سوداگر نے ایک قاضی کے پاس کچھ رقم امانت رکھوائی۔کچھ عرصہ کے بعد جو آکر مانگی تو قاضی نے انکار کر دیا اور کہا میں نے تم سے کچھ رکھنے کے لئے نہیں لیا تھا۔سوداگر نے بادشاہ کے حضور جا کر عرض کی۔بادشاہ نے سوچا کہ اگر میں قاضی کو یہاں بلواتا ہوں تو وہ روپیہ دینے سے انکار کر دے گا اور چونکہ اس کے پاس امانت رکھنے کا کوئی ثبوت نہیں ہے اس لئے روپیہ وصول نہیں ہو سکے گا۔اُس نے کہا کل جب میں سیر کے لئے نکلوں گا تو تم فلاں جگہ ٹھہرے رہنا میں آکر تم سے ملوں گا اور باتیں کروں گا۔دوسرے دن اُس نے اسی طرح کیا اور بادشاہ نے تمام ہمراہیوں کے سامنے جن میں قاضی بھی تھا اُس سے باتیں کیں ، جب وہ باتیں کر کے چلا گیا تو قاضی نے اُس کو بلا کر کہا۔میاں تم کچھ روپوں کا ذکر کرتے تھے کیسے روپے تھے؟ کچھا تا پتا بتاؤ تا کہ