اوڑھنی والیوں کے لئے پُھول

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 177 of 452

اوڑھنی والیوں کے لئے پُھول — Page 177

177 باپ سے پیدا ہوتا ہے اور روح آسمان سے آتی ہے۔یہ آریوں کا خیال ہے کہ رُوح ہمیشہ سے چلی آتی ہے اس طرح خدا روح کا خالق تو نہ ہوا۔سورہ دھر میں اللہ تعالے ماں کے پیٹ میں بچہ کے نشو ونما کو اس طرح بتاتا ہے کہ جس وقت دنیا میں اُس کا کوئی مذکور نہ تھا ہم نے چند چیزوں کے خلاصہ سے اس کو سمیع اور بصیر انسان بنایا اور یہ اس ہی غذا کا خلاصہ ہے جو ماں باپ کھاتے تھے۔بچہ کی پیدائش اور رُوح کی مثال اُس طرح ہے جس طرح ہو اور کھجور سے سرکہ بناتے ہیں اور سرکہ سے شراب۔اسی طرح بچہ سے رُوح پیدا ہو جاتی ہے۔گلاب کا عطر گلاب کے پھولوں کا ایک حصہ ہے جو خاص طریقہ پر تیار کرنے سے بن جاتا ہے۔پس جس طرح پھول کی پتیوں سے عطر نکل آتا ہے اور سرکہ سے شراب بن جاتی ہے اسی طرح بچہ کے جسم سے رُوح تیار ہو جاتی ہے۔ہمارے ملک میں تو ابھی اس قدر علم نہیں ہے یورپ میں دوائیوں سے عطر تیار کرتے ہیں۔دو ایک دوائیاں ملائیں اور خوشبو بن گئی۔پس جس طرح پھولوں سے خوشبو اور جو سے شراب بن جاتی ہے اسی طرح جسم سے روح پیدا ہو جاتی ہے۔پہلے بچے کا جسم پیدا ہوتا ہے اور پھر جسم میں ہی روح پیدا ہو جاتی ہے۔کیونکہ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے۔اِنَّا خَلَقْنَا الْإِنْسَانَ مِنْ نُطْفَةٍ که گوشت ، ترکاریاں، پانی، طرح طرح کے پھل، ہر ایک قسم کی دالیں جو ماں باپ کھاتے ہیں، ان مختلف قسم کی غذاؤں کا خلاصہ نکال کر ہم نے انسان کو پیدا کیا۔انسان کو مقدرت دی گئی پھر إِنَّا هَدَينه السَّبِيلِ إِمَّا شَاكِرًا إِمَّا كَفُورًا۔ہم نے جو سب چیزوں کے نچوڑ سے خلاصہ بن گیا تھا اس پر انعام کیا اور وہ بولنا چاہتا انسان بن گیا۔پس تم دیکھو کہ تمھاری ابتداء اس طرح پر ہوئی اور پیدائش کے لحاظ سے تمھارے اور گائے بھیڑ بکری میں کوئی فرق نہیں۔اگر فرق ہوا تو احسان سے ہوا ہے اور وہ یہ کہ اس کی طرف وحی بھیجی اس پر اپنا کلام اتارا اور اس کے اندر یہ قوت رکھ دی کہ چاہے تو شکر کرے اور چاہے تو انکار کرے۔ہم نے انسان کو ان حقیر چیزوں سے پیدا کیا اور اس میں یہ قوت رکھ دی کہ چاہے ہماری راہ میں جدو جہد کر کے ہماری رضاء کو حاصل کرلے اور چاہے ہمارے نبی کا منکر ہو جائے۔اس کو جو اقتدار حاصل ہے ہم اس میں دخل نہیں دیتے۔ہاں خدا کا کلام اُس پر اترا اور اسے بتایا کہ اُس پر چل کر ترقی کر سکتے