اوڑھنی والیوں کے لئے پُھول — Page 138
138 لشکر عرب سے دُور تھا اور انہیں بہت خطرہ ہو گیا۔جب یہ شکر بھاگتا ہوا عورتوں کے خیمہ کے پاس پہنچا تو ہندہ جس نے کفر کے زمانہ میں حضرت حمزہ کی لاش کے ناک، کان کٹوا دئے تھے اپنے خیمہ کی چوبیں اُٹھا لیں اور عورتوں سے کہا کہ تم میں سے ہر ایک اپنے اپنے باپ بھائی وفیہ کو رو کے کہ وہ یہاں نہ آئیں واپس جا کر لڑیں۔ابو سفیان خود بھی آرہے تھے اسلئے ہندہ نے ابو سفیان کے گھوڑے کو ڈنڈا مار کر پیچھے پھیر دیا اور کہا کہ اگر اس طرح بھاگ کر آؤ گے تو اپنے ہاتھ سے قتل کر دوں گی۔نتیجہ یہ ہوا کہ مسلمانوں کا لشکر جو بیدل ہو کر واپس آرہا تھا پھر پیچھے مڑا اور دس لاکھ کو شکست فاش دی۔وہ فتح محض عورتوں کی بہادری کا نتیجہ تھی۔میں یہ کہہ رہا تھا کہ یورپ میں عورتیں مردوں سے ہمیشہ مطالبہ کرتی رہتی ہیں کہ ہمیں کام کیوں نہیں کرنے دیتے۔جس کا نفرنس میں میں گیا تھا اس کی سیکر ٹری ایک عورت تھی۔محنت سے کام کرتی تھی میں نے وہاں کے حالات مطالعہ کر کے یہ نتیجہ نکالا ہے کہ ہمارے ملک کے مردوں کے دماغ وہاں کے مردوں سے اچھے ہیں اور عورتوں کے دماغ بھی وہاں کی عورتوں سے اچھے ہیں میں نے دیکھا ہے کہ جو بات عورتیں آسانی سے سمجھ سکتی ہیں وہاں کے تعلیم یافتہ مردوں کو سمجھنے میں دقت ہوتی ہے۔دماغی حیثیت سے ہمارے دماغ اچھے ہیں۔ایسا ہی عورتوں کے :۔نوں کی حالت ہے۔پس اس افسوس کے بعد کہ ہماری عورتوں کی تعلیم و تربیت کے انتظام میں بہت کچھ کرنے کی ضرورت ہے میں اپنی جماعت کی عورتوں سے درخواست کرتا ہوں کہ وہ اپنی کمزوریوں کے خیال کو چھوڑ کر دینی اور دنیاوی تعلیم میں کوشش کریں۔وہ یا درکھیں کہ محض جوش کام نہیں آتے جب تک اس کے ساتھ علم و ہنر نہ ہو۔میں جانتا ہوں کہ تم میں سے بہتوں کے دل میں جوش ہے کہ وہ خدمت دین کریں مگر یہ جوش اُس وقت کام آئے گا جب علم و تربیت کے ساتھ ہو۔اگر تعلیم و تربیت نہ ہو تو کوئی نتیجہ پیدا نہ ہوگا۔پس اگر تم چاہتی ہو کہ کوئی کام کریں تو علم حاصل کرو اور سیکھنے کی کوشش کرو۔علم تمہیں وہ قابلیت عطا کرے گا کہ تم کام کرنے کے طریق سے واقف ہو جاؤ گی۔(الفضل ۵ فروری ۱۹۲۰ء)