اوڑھنی والیوں کے لئے پُھول

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 124 of 452

اوڑھنی والیوں کے لئے پُھول — Page 124

124 اس کی جڑ میں گیارہ آدمیوں کے ایمان کا پانی سینچا جائے گاوہ کیسا اعلے ہوگا اور اپنے وقت پر وہ کیسے ثمرات دے گا۔اس کے بعد میں یہاں کی جماعت کے لوگوں اور اُن کی عورتوں کو اور باہر کی جماعتوں کو اور ان کی عورتوں کو مخاطب کرتا ہوں کہ ابھی تک بہت سی جماعتوں کے چندے نہیں آئے۔تازہ تازہ کام کے کرنے میں جو ثواب اور لطف ہوتا ہے وہ بعد میں نہیں ہوتا اور سابقوں کو جو درجہ حاصل ہوتا ہے وہ بعد میں آنے والوں سے بہت اعلیٰ ہوتا ہے۔دیکھو ایک صحابی تو ابو بکر بن گیا اور ایک وہ بھی صحابی ہوگا جو بعد میں ایمان لایا۔اور اُس کا کوئی نام بھی نہیں جانتا۔اس کی کیا وجہ ہے یہی کہ ابو بکر اُسی وقت ایمان لایا جب اُس کے کان میں آواز پڑی اور دوسرے بعد میں ایمان لائے۔تو دیر سے کام کرنے میں بھی ثواب میں کمی ہو جاتی ہے۔یہاں کی ان مستورات کو جنہوں نے چندے نہیں دے یا ادا نہیں کئے اور باہر کی مستورات کو بھی جنہوں نے چندے نہیں لکھائے یا ادا نہیں کئے تحریک کرتا ہوں کہ وقت پر ایک پیسہ جو فائدہ دے سکتا ہے بے وقت ہزار ہا روپیہ بھی اتنا فائدہ نہیں دے سکتا۔پس جن بہنوں نے چندے لکھائے ہیں ان کو چاہیے کہ جلدی ادا کریں اور بھائیوں کو چاہیئے کہ اُن کو تحریک کرتے رہیں۔اگر چہ اس کام میں مردوں کا چندہ نہیں رکھا گیا مگر وہ عورتوں میں تحریک کر کے ثواب حاصل کر سکتے ہیں اب کئی گھبرا کر لکھ رہے ہیں کہ ہماری عورتیں غیر احمدی ہیں ہم کیا کریں۔میں کہتا ہوں کہ تمہاری سستی کا خمیازہ ہے کیوں تم نے ان کو احمدی نہیں کیا اور جب تم نے اس قدرستی دکھائی ہے تو یہی وقت ہے کہ تمہیں چوٹ لگے اور تم محسوس کرو کہ تم سے کس قدر کوتا ہی ہوئی۔پھر یہ بھی ایمان کی علامت ہے کہ کئی لوگ لکھ رہے ہیں کہ آپ دُعا فرمائیں میری بیوی چندہ دینے میں کمزوری نہ دکھائے۔کہتے ہیں کسی مولوی نے عورتوں میں چندہ کی تحریک کی اُس کی اپنی بیوی بھی بیٹھی ہوئی تھی وہ بھی ایک بالی دے آئی جب وہ گھر آیا اور معلوم ہوا کہ اُس کی بیوی نے بھی بالی دی ہے تو کہنے لگا تم نے بالی کیوں دی؟ یہ تحر یک تو اوروں کے لئے تھی نہ کہ اپنے گھر کے لئے ؟ لیکن ہماری جماعت کے لوگوں کی یہ حالت ہے کہ وہ لکھ رہے ہیں دُعا کی جائے کہ اُن کی عورتیں چندہ دینے میں کوتا ہی نہ کریں پھر بعض لکھ رہے ہیں کہ وفات یافتہ بیوی کی طرف سے چندہ دینے کی اجازت دی جائے۔غرض یہ ایسا نظارہ ہے کہ جو اپنی نظیر نہیں رکھتا اور جس کا نمونہ صحابہ کے زمانہ میں ہی پایا جاتا ہے اور معلوم