اَلْاَزْھَارُ لِذَوَاتِ الْخِمَارِ یعنی اوڑھنی والیوں کیلئے پھول (جلد سوم حصہ دوم) — Page 73
الازهار لذوات الخمار جلد سوم حصہ دوم 73 جلسہ سالانہ برطانیہ 2007 مستورات سے خطاب طرف آیا جن میں ابو جہل بھی شامل تھا۔تو جب وہ دروازے پر آئے تو میں ان کی طرف نکلی۔انہوں نے پوچھا کہ تیرا باپ ابو بکر کہاں ہے؟ میں نے جواب دیا کہ میں نہیں جانتی۔حضرت اسماء کہتی ہیں کہ ابو جہل جو کہ بدگو اور خبیث تھا، اس نے میرے گال پر اس زور سے تھپڑ مارا کہ میرے کان کی بالی بھی اس میں سے نکل کر دور جا پڑی۔تو یہ تکلیفیں برداشت کرنی پڑیں شروع میں۔یہ تو ہلکی سی تکلیف ہے ، آگے واقعات آئیں گے کہ کس طرح تکلیفیں برداشت کرتی تھیں۔پھر قریش کے خاندان بنو عدی کی ایک شاخ بنی موکمل کی لونڈی تھیں لبین" بعد بعثت کے ابتدائی سالوں میں ان کو اسلام میں شامل ہونے کی سعادت ملی۔اس پر حضرت عمر بن خطاب اپنے اسلام لانے سے پہلے اتنے برافروختہ ہوئے کہ ان کو روزانہ زدوکوب کیا کرتے تھے۔جب مارتے تھک جاتے تھے تو کہتے تھے کہ اب میں تھک گیا ہوں اس لئے تجھے چھوڑا ہے اور اب بھی اس نئے دین کو یعنی اسلام کو ترک کر دے، نہیں تو جب دوبارہ میری طاقت بحال ہو گی پھر ماروں گا، وہ جواب میں کہتیں کہ ہر گز نہیں ، جتنا ظلم ڈھا سکتا ہے ڈھالے۔میں یہی کہوں گی کہ اللہ تعالیٰ تمہارے ساتھ بھی ایسا ہی کرے۔بالآخر حضرت ابوبکر صدیق نے انہیں خرید کر آزاد کروایا۔حضرت صفیہ نے حضرت زبیر کی تربیت بڑے عمدہ طریق پر کی۔ان کی خواہش تھی کہ ان کا یہ بیٹا بڑا ہو کر ایک نڈر اور بہادر سپاہی بنے۔چنانچہ وہ حضرت زبیر سے سخت محنت اور مشقت سے کام لیتی تھیں۔آج واقفینِ نو کی مائیں جو ہیں ان کے لئے بھی مشعل راہ ہے۔بجائے اس کے کہ ناجائز ضروریات پوری کر کے اپنے بچوں کے نخرے برداشت کر کے ان کو ایسی عادت ڈالیں جو ان کو سہل پسندی کی عادت پڑ جائے ، ان کو سختی کی عادت ڈالیں یہ تربیت ہے جو واقفین نو کی آپ نے کرنی ہے تا کہ جب وہ میدانِ عمل میں آئیں تو ہر آزمائش پر، ہر مشکل پر وہ ایک چٹان بن کر کھڑے ہو جائیں اور کبھی ان کا دل کسی مشکل کو دیکھ کر اور کسی مصیبت کو دیکھ کر ان کو کمزوری کی طرف لے جانے والا نہ ہو۔رض پھر حضرت صفیہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا کے بارہ میں آتا ہے کہ جب انہوں نے حضرت زبیر کے ساتھ ہجرت کی جن کا میں نے پہلے واقعہ سنایا تو غزوہ احد میں جب مسلمانوں نے شکست کھائی تو وہ مدینہ سے نکلیں، صحابہ سے عتاب آمیز لہجے میں کہتی تھیں کہ رسول اللہ ﷺ کو چھوڑ کر چل دیئے۔