اَلْاَزْھَارُ لِذَوَاتِ الْخِمَارِ یعنی اوڑھنی والیوں کیلئے پھول (جلد سوم حصہ دوم)

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 105 of 156

اَلْاَزْھَارُ لِذَوَاتِ الْخِمَارِ یعنی اوڑھنی والیوں کیلئے پھول (جلد سوم حصہ دوم) — Page 105

الازهار لذوات الخمار جلد سوم حصہ دوم 105 جلسہ سالانہ جرمنی 2007 مستورات سے خطاب کی تھی۔رَّبِّ ارْحَمْهُمَا كَمَا رَبَّينِي صَغِيرًا۔(بنی اسرائیل: ۲۵) کہ اے میرے رب ! اُن پر مہربانی فرما کیونکہ اُنہوں نے بچپن کی حالت میں میری پروش یقیناً یہ دعا انہی بچوں کے منہ سے نکلے گی جن کا اللہ تعالیٰ سے مضبوط تعلق ہوگا، جو عبادتوں کی اہمیت سمجھتے ہوں گے، جو نیک اعمال کی طرف توجہ دینے والے ہوں گے۔نیک اعمال کر کے ہی انہیں خیال آئے گا کہ میرے رب کے بعد میرے والدین کا مجھ پر احسان ہے، میری ماں کا مجھ پر احسان ہے، میرے باپ کا مجھ پر احسان ہے جنہوں نے میری نیک تربیت کی۔میری ایسے رنگ میں پرورش کی کہ مجھے میرے خدا سے ایک زندہ تعلق پیدا کروا دیا۔میری اس رنگ میں پرورش کی مجھے جماعت کے لئے خدمت کا موقع عطا فرمایا۔سوچیں ذرا جو واقفین نو بچے اور بچیاں خدمت دین پر کمر بستہ ہوں گے، ایک قربانی کے جذبے سے دین کی خدمت کر رہے ہوں گے۔اس وقت ان کے دل میں جہاں اپنے رب کے لئے شکر کے جذبات کا اظہار ہو رہا ہوگا، وہاں اپنے والدین کے لئے بھی دل سے دعائیں نکل رہی ہوں گی کہ اے خدا تیرا لاکھ لاکھ شکر ہے کہ تو نے مجھے ایسے والدین عطا فرمائے جنہوں نے خلیفہ وقت کی آواز پر لبیک کہتے ہوئے ہمیں خدمت دین کے لئے وقف کیا۔پس اے خدا میرے ایسے والدین پر اس دنیا میں بھی رحمتوں اور فضلوں کی بارش برسا دے اور اگلے جہان میں بھی ان سے وہ پیار کا سلوک کر جو تو اپنے پیاروں سے کرتا ہے۔پس یہ دعا جو ہمارے پیارے خدا نے ہمیں اپنے والدین کے لئے سکھائی ہے تو یقینا اس کی بہت اہمیت ہے۔یقیناً قبولیت کا درجہ دینے کے لئے دعا سکھائی ہے۔یقیناً ماں باپ کو ان کے بچوں کی تربیت پر ان کو ایک اعلیٰ سرٹیفیکیٹ دینے کے لئے دعا سکھائی ہے کہ اے بچو! تم اپنے ایسے نیک ماں باپ کا احسان نہیں اتار سکتے ہو، ان کا شکر ادا کر سکتے ہو اور اس کا بہترین ذریعہ یہ کہ ہمیشہ جب بھی کوئی نیک کام کرو، اپنے ماں باپ کو یاد رکھتے ہوئے ، میرے سے ان کے لئے رحم کی دعا مانگو۔میں اُن کے درجات کو بڑھاتا چلا جاؤں گا۔ایک حدیث میں ہے کہ ماں گھر کی نگران ہونے کی وجہ سے، جو پہلے بھی میں نے ذکر کیا، اپنے اور اپنے خاوند کے بچوں کی نگران ہوتی ہے اور اس کی وجہ وہ پوچھی جائے گی اگر صحیح نگرانی