اَلْاَزْھَارُ لِذَوَاتِ الْخِمَارِ یعنی اوڑھنی والیوں کیلئے پھول (جلد سوم حصہ دوم)

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 91 of 156

اَلْاَزْھَارُ لِذَوَاتِ الْخِمَارِ یعنی اوڑھنی والیوں کیلئے پھول (جلد سوم حصہ دوم) — Page 91

الا ز حارلذوات الخمار جلد سوم حصہ دوم 91 جلسہ سالانہ برطانیہ 2007 مستورات سے خطاب پھر زخم کی پٹی کروائی حضرت ام عمارہ کی۔اور کئی بہادر صحابہ کا نام لے کر فرمایا کہ واللہ آج ام عمارہ نے ان سب سے زیادہ بڑھ کر بہادری دکھائی۔ام عمارہ نے عرض کیا: یا رسول اللہ میرے ماں باپ آپ پر قربان، میرے لئے دعا کریں کہ مجھے بھی جنت میں آپ کی معیت نصیب ہو۔حضور نے نہایت خشوع سے اس کے لئے دعا مانگی اور با آواز بلند فرمایا " اللَّهُمَّ اجْعَلُهُمْ رُفَقَاءِ فِي الْجَنَّةِ “۔” حضرت اُم عمارہ کو بڑی مسرت ہوئی اور ان کی زبان پر بے اختیار یہ الفاظ جاری ہو گئے کہ اب مجھے دنیا میں کسی مصیبت کی کوئی پروا نہیں۔صلى الله لڑائی ختم ہوئی تو حضور ہے اس وقت تک گھر تشریف نہیں لے گئے جب تک آپ نے حضرت عبداللہ بن کعب زمانی کو بھیج کر حضرت اُم عمارہ کی خیریت دریافت نہ کر لی۔حضور فرمایا کرتے تھے : اُحد کے دن میں دائیں بائیں میں جدھر نظر ڈالتا تھا ام عمارہ ہی ام عمارہ لڑتی نظر آتی تھیں۔ایک روایت میں ہے کہ غزوہ احد میں حضرت ام عمارہ کے جسم پر بارہ زخم لگے تھے اور علامہ ابن سعد کا بیان ہے کہ غزوہ احد کے بعد انہوں نے بیعت رضوان میں ، جنگ خیبر اور دوسری جنگوں میں شرکت کی اور ایک روایت میں ہے کہ فتح مکہ کے وقت بھی آنحضرت ﷺ کے ساتھ تھیں۔حضرت ام عمارہ کا یہ جراتمندانہ فعل اللہ تعالیٰ کی رضا حاصل کرنے کے لئے تھا ، رسول اللہ علیہ کی حفاظت کے لئے تھا، اسلام کی خاطر قربانی کرنے کے لئے تھا۔آج بھی احمدی عورتوں نے اس زمانے کی مناسبت سے اس مقصد کے حصول کے لئے قربانیاں دی ہیں۔چند ایک کی میں نے مثالیں دیں اور دے رہی ہیں۔اور صبر کے نمونے دکھائے ہیں اور دکھا رہی ہیں۔اس زمانے میں اگر جنگ کے حالات ہوں تو احمدی عورت کو وہ نمونے دکھانے پڑے تو وہ بھی دکھائے گی انشاء اللہ تعالیٰ اور پیچھے نہیں رہے گی۔حضرت مصلح موعود رضی اللہ تعالیٰ عنہ ایک واقعہ بیان کرتے ہیں جس سے پتہ لگتا ہے کہ ضرورت پڑے تو یہ نمونے احمدی عورتیں دکھا سکتی ہیں۔قادیان میں پارٹیشن کے وقت جب شعائر اللہ کی حفاظت کے لئے اور وہاں بہت ساری عورتیں جمع تھیں، اُن کی عزت و ناموس کی حفاظت کے لئے ایک انتظام تھا۔تو ایک انتظام کے تحت عورتوں کو عورتوں کی ہی حفاظت کی ذمہ داری دی گئی تھی۔حضرت مصلح موعود لکھتے ہیں جب قادیان میں ہندوؤں اور سکھوں نے حملہ کیا تو شہر سے باہر کے ایک