اَلْاَزْھَارُ لِذَوَاتِ الْخِمَارِ یعنی اوڑھنی والیوں کیلئے پھول (جلد سوم حصہ دوم)

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 87 of 156

اَلْاَزْھَارُ لِذَوَاتِ الْخِمَارِ یعنی اوڑھنی والیوں کیلئے پھول (جلد سوم حصہ دوم) — Page 87

الازهار لذوات الخمار جلد سوم حصہ دوم 87 جلسہ سالانہ برطانیہ 2007 مستورات سے خطاب میں انہوں نے بیعت کی تھی اور احمدیت قبول کرنے کے بعد مولوی آپ کو بہت تنگ کرتے تھے، دھمکیاں دیتے تھے۔ان کا ایک لکڑی کا آرا تھا۔ایک دن ایک نقاب پوش آیا اور خنجر نکال کر آپ پر وار کئے اور شہید کر دیا۔شوہر کی شہادت پر سسرال والوں نے اُسے کہا کہ تم احمدیت چھوڑ دو۔سسرال غیر احمدی تھا۔تو ہم تمہیں پناہ دیدیں گے۔دشمن بھی دھمکیاں دیتے تھے کہ احمدیت چھوڑ دو اور ہمارے ساتھ مل جاؤ ، ہم تمہیں سینے سے لگائیں گے۔لیکن اس با حوصلہ عورت نے ہر بات کو ر ڈ کر دیا اور کسی قیمت پر احمدیت کو چھوڑ نا گوارا نہ کیا۔یہ واقعات تو بہت ہیں دیر ہو رہی ہے۔رشیدہ بیگم صاحبہ اہلیہ قاری عاشق حسین صاحب،انہوں نے 1976ء میں احمدیت قبول کی اور سانگلہ ہل شہر کی رہنے والی تھیں اور احمدیت کے رستے میں ہر دکھ اور قربانی کو بڑی خوشی سے قبول کیا۔آپ کی وفات کا نہایت ہی دردناک واقعہ ہے۔آپ کے پالے ہوئے بیٹے نے، جسے لے پالک بنایا تھا آپ نے ، آپ کو احمدی ہونے کی وجہ سے چھری سے حملہ کر کے قتل کر دیا ، شہید کر دیا۔پھر مبارکہ بیگم صاحبہ اہلیہ مبارک سلیم بٹ صاحب چونڈہ کے بارے میں لکھا ہے۔2 مئی کو دعوت الی اللہ کے سلسلے میں قریبی گاؤں ڈوگرہ گئی تھیں۔ایک نو مبائع عابد صاحب کے گھر میں بیٹھی تھیں کہ ایک مخالف نے چھری سے وار کر کے شدید زخمی کر دیا، ہسپتال میں گئیں علاج ہوا اور بڑی خون کی بوتلیں لگیں لیکن زندگی نہ بچ سکی۔احمدی عورت کی غیرت ایمانی کے بارے میں حضرت مصلح موعود فرماتے ہیں پھر احمدی عورتوں کی غیرت ایمانی کے بارے میں حضرت مصلح موعودؓ ایک واقعہ سناتے ہیں کہ مجھے یاد ہے کہ سن 17ء میں ایک دفعہ مولوی ثناء اللہ امرتسری قادیان آئے اور وہاں ایک جلسہ ہوا۔پانچ چھ ہزار غیر احمدی وہاں جمع ہوئے۔اس وقت قادیان میں احمدی بہت تھوڑے تھے اور شہر کی آبادی بھی بہت کم تھی۔اور جب قادیان سن 47ء میں نکلے ہیں اُس وقت سترہ اٹھارہ ہزار احمدی تھے لیکن اُس سے پہلے بہت تھوڑے تھے، تقریباً دس بارہ سو آدمی تھا اُس زمانے میں۔اور چھ سات ہزار غیر احمدیوں کا مجمع بہت بڑا مجمع تھا۔تو کہتے ہیں مولوی ثناء اللہ صاحب نے خیال کیا کہ انہیں کوئی کچھ نہیں کہہ سکتا۔انہوں نے اپنی تقریر میں حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کے خلاف سخت بد زبانی