اَلْاَزْھَارُ لِذَوَاتِ الْخِمَارِ یعنی اوڑھنی والیوں کیلئے پھول (جلد سوم حصہ دوم) — Page 84
الازھار لذوات الخمار جلد سوم حصہ دوم 84 جلسہ سالانہ برطانیہ 2007 مستورات سے خطاب تم اسے اپنے پاس رکھو۔اس پر اس نے کہا حضور جب میں ہندوستان سے چلی تھی تو میں نے عہد کیا تھا کہ میں امن سے لاہور پہنچ گئی تو میں اپنایہ زیور چندہ میں دیدوں گی۔اگر سکھ باقی سب زیورات کے ساتھ یہ زیور بھی چھین کر لے جاتے تو میں کیا کر سکتی تھی۔جس کی نیت کی تھی چندہ میں دیدوں گی وہ بچ گیا اور باقی ساراز یورلوٹا گیا اور سارا سامان لوٹا گیا، اس لئے میں مجبور ہوں ، آپ میری اس بات کورڈ نہ کریں اور اس کو وصول کر لیں۔ایک واقعہ حضرت خلیفتہ مسیح الرابع نے سنایا کہ کو پن جیگن کی جب تحریک ہو رہی تھی مسجد کی۔تو عورتیں جس طرح والہانہ طور پر مالی قربانیاں کر رہی تھیں۔اتفاق سے ایک غیر احمدی عورت بھی وہاں بیٹھی تھی ، یہ نظارہ دیکھ رہی تھی تو اس نے یہ تبصرہ کیا کہ ہم نے دیوانہ وارلوگوں کو پیسے لیتے تو دیکھا ہے لیکن دیوانہ وار لوگوں کو پیسے دیتے ہوئے کبھی نہیں دیکھا۔یہ آج احمدی عورتوں نے ہمیں بتایا ہے کہ پیسے لیتے ہوئے جوش نہیں ہوا کرتا ، اصل جوش وہ ہے جو پیسے دیتے وقت دکھایا جائے۔اللہ تعالیٰ کے فضل سے یہ زندگی کی وہ علامت ہے جو احمدی خواتین کو سب سے زیادہ ممتاز کرتی ہے۔پھر مبلغین کی بیویوں نے شروع میں جب حالات اچھے نہیں تھے، بڑی بڑی قربانیاں دیں اور بغیر خاوندوں کے رہیں اور بچے اس طرح پالے جیسے یتیمی میں پالے جاتے ہیں۔اسی طرح کا ایک واقعہ ہے حضرت مولوی رحمت علی صاحب انڈونیشا کے مبلغ کا۔بڑا لمبا عرصہ باہر رہے۔آخر جب ایک وقت آیا۔جب ان کے بچے بچپن میں تو پوچھا کرتے تھے کہ ہمارے ابا کہاں ہیں۔جب بچے جوان ہو گئے بڑے ہو گئے ، شادیاں ہوگئیں تو مرکز نے فیصلہ کیا حضرت خلیفہ المسیح الثانی نے فیصلہ کیا کہ اُن کو واپس بلا لیا جائے تو اس وقت ان کی بیوی آئیں حضرت خلیفہ المسیح الثانی کے پاس اور بڑے درد سے یہ بات کہی کہ دیکھیں جب میں جوان تھی تو اللہ کی خاطر صبر کیا تھا میں نے اور اپنے خاوند کی جُدائی پر اُف تک نہ کی۔اپنے بچوں کو کسمپرسی کی حالت میں پالا پوسا اور جوان کیا۔اب جبکہ میں بوڑھی اور بچے جوان ہو چکے ہیں، اب ان کو واپس بلانے سے کیا فائدہ۔اب تو میری تمنا پوری کر دیجئے ، میری یہ خواہش پوری کریں کہ میرا خاوند مجھ سے دور خدمت دین کی مہم میں دوسرے ملک میں مر جائے اور میں فخر سے کہہ سکوں کہ میں نے اپنی شادی شدہ زندگی دین کی خاطر قربان کر دی۔تو یہ تھے قربانیوں کے میعار اور آج بھی ہیں۔