اَلْاَزْھَارُ لِذَوَاتِ الْخِمَارِ یعنی اوڑھنی والیوں کیلئے پھول (جلد سوم حصہ دوم)

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 75 of 156

اَلْاَزْھَارُ لِذَوَاتِ الْخِمَارِ یعنی اوڑھنی والیوں کیلئے پھول (جلد سوم حصہ دوم) — Page 75

الازهار لذوات الخمار جلد سوم حصہ دوم 75 جلسہ سالانہ برطانیہ 2007 مستورات سے خطاب لئے وہ آپ کے چہرے کو نہ دیکھ سکی، وہ ادھر اُدھر دیکھتی رہی۔آخر کار اس کی نظر آپ ﷺ کے چہرہ پر ٹک گئی۔وہ آپ کے قریب آئی اور کہنے لگی :یارسو اللہ ﷺ! جب میں نے آپ کو سلامت دیکھ لیا تو آپ سمجھیں کہ میں نے مصیبت کو بھون کر کھا لیا۔پھر صبر کی ایک اور مثال۔ایک دفعہ رسول کریم علیہ حضرت فاطمۃ الزھراء رضی اللہ عنہا کے ہاں تشریف لے گئے۔دیکھا کہ سیدۃ النساء اونٹ کی کھال کا لباس پہنے ہوئے ہیں۔بڑا موٹا سا لباس ہے کھال کا۔اور اس میں تیرہ پیوند لگے ہوئے ہیں۔آج ہمیں شکر گزار ہونا چاہیے کہ اللہ تعالیٰ نے ایسے حالات کیسے ہوئے ہیں کہ جب اعلیٰ سے اعلیٰ لباس ہم پہن سکتے ہیں اور آٹا گوندھ رہی ہیں اور زبان پر کلام اللہ کا ورد جاری ہے۔حضور یہ منظر دیکھ کر آبدیدہ ہو گئے ، آنسو نکل آئے آنکھوں سے۔اور فرمایا: فاطمہ! دنیا کی تکلیف کا صبر سے خاتمہ کر اور آخرت کی دائمی لذت کا انتظار کر، اللہ تمہیں نیک اجر دے گا۔خاوندوں سے ناجائز مطالبات اس کے بعد ایک اور مثال ہے۔کس طرح یہ مشعلِ راہ ہے آجکل کی ان عورتوں کیلئے بھی ، ان بیویوں کے لئے بھی، جو خاوندوں سے ناجائز مطالبات کرتی ہیں۔ایک دفعہ حضرت علی مرتضی گھر تشریف لائے۔کچھ کھانے کو مانگا کہ کچھ کھانے کو دو حضرت فاطمہ سے۔تو آپ نے بتایا کہ آج تیسرا دن ہے گھر میں جو کا ایک دانہ تک نہیں۔حضرت علیؓ نے فرمایا کہ اے فاطمہ! مجھ سے تم نے ذکر کیوں نہیں کیا کہ میں کوئی انتظام کرتا۔انہوں نے جواب دیا کہ میرے باپ ﷺ نے رخصتی کے وقت نصیحت کی تھی کہ میں کبھی سوال کر کے آپ کو شرمندہ نہ کروں۔یہ نہ ہو کہ آپ کے حالات ایسے ہوں اور میں سوال کروں اور وہ میری خواہش پوری نہ ہو سکے اور اس کی وجہ سے آپ پر بوجھ پڑے یا قرض لے کر پورا کریں یا ویسے دل میں ایک پریشانی پیدا ہو کہ میں اس کی خواہش پوری نہیں کر سکا۔تو یہ ایک ایسی بات ہے جو ہر عورت کے لئے مشعلِ راہ ہے۔ہر اس عورت کے لئے جو خاوندوں سے ناجائز مطالبات کرتی ہیں۔پھر صبر کی ایک اور مثال ہے علامہ ابن سعد نے طبقات میں بیان کیا ہے کہ حضرت ام شریک نے اسلام قبول کیا تو ان کے مشرک عزیز واقارب جو تھے اُن کو