اَلْاَزْھَارُ لِذَوَاتِ الْخِمَارِ یعنی اوڑھنی والیوں کیلئے پھول (جلد سوم حصہ دوم)

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 49 of 156

اَلْاَزْھَارُ لِذَوَاتِ الْخِمَارِ یعنی اوڑھنی والیوں کیلئے پھول (جلد سوم حصہ دوم) — Page 49

الازھار لذوات الخمار جلد سوم حصہ دوم 49 فرمودہ 5 مئی 2006 بمقام بیت المقیت، آک لینڈ ( نیوزی لینڈ) احمدی بچوں کے دوسرے مذاہب میں رشتے کی وجہ سے، شادیوں کی وجہ سے پیدا ہوتے ہیں۔کیونکہ پھر علم ہونے کی وجہ سے اور اس علم کو پھیلانے کی وجہ سے خلاف تعلیم رشتوں کی طرف زیادہ رجحان نہیں رہے گا۔اور پھر اس کے ساتھ ساتھ قربانی کے معیار بھی بڑھ رہے ہوں گے۔نیوزی لینڈ میں جماعت زیادہ پرانی نہیں ہے۔تقریباً تمام لوگ ہی ابتدائی احمدیوں میں شامل ہوتے ہیں۔آپ لوگوں کو خاص طور پر اپنے اندر تبدیلیاں پیدا کرنے کے لئے، اپنی اصلاح کرنے کی طرف خاص توجہ دینی چاہئے۔اور پھر تبلیغ کے میدان میں بھی آنا چاہئے۔اپنے دینی علم کو بھی بڑھانا چاہئے۔اگر آپ یہ کوشش کریں اور اگر پلاننگ کی جائے تو جس طرح آپ کے بڑوں نے کیا جیسا کہ میں نے کہا تھا تو آپ یہ پیغام بڑی جلدی بعض جگہوں پر پہنچا سکتے ہیں۔میں پہلے رشتوں کی بات کر رہا تھا۔ضمناً یہاں یہ بھی بتادوں کہ مجھے پتہ ہے رشتوں کے بڑے مسائل ہیں خاص طور پر لڑکیوں کے رشتوں کے کیونکہ میں نے عموماً دیکھا ہے شاید چھوٹی جگہوں پر بھی ہوں۔نجی وغیرہ میں ماشاء اللہ لڑکیاں پڑھی لکھی ہیں۔یہاں بھی رشتے ہیں۔آسٹریلیا میں بھی اور جگہوں پر بھی ہیں۔تو اس کے لئے ایک تو جماعت کا رشتہ ناطہ کا نظام ہے اس کو فعال ہونا چاہئے۔اور ویسے اگر پتہ لگے تو باہر بھی کوشش ہو سکتی ہے۔اس لئے یہ جو آپ کے یہاں چار پانچ ملک ہیں ان میں با قاعدہ اس کا ہر جگہ ریکارڈ رکھا جانا چاہئے۔بہر حال یہ توضمنا بات تھی۔حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام ہمیں اللہ کا قرب پانے اور اپنے اندر پاک تبدیلیاں پیدا کرنے کی طرف توجہ دلاتے ہوئے اور اس ضمن میں اپنے بیوی بچوں کو بھی ساتھ لے کر چلنے کے بارے میں فرماتے ہیں کہ : ” خدا تعالیٰ کی نصرت انہیں کے شامل حال ہوتی ہے جو ہمیشہ نیکی میں آگے ہی آگے قدم رکھتے ہیں۔ایک جگہ نہیں ٹھہر جاتے اور وہی ہیں جن کا انجام بخیر ہوتا ہے۔بعض لوگوں کو ہم نے دیکھا ہے کہ ان میں بڑا شوق ذوق اور شدت رقت ہوتی ہے مگر آگے چل کر بالکل ٹھہر جاتے ہیں۔ایک وقت میں تو دین کی طرف بڑی توجہ ہو رہی ہوتی ہے لیکن پھر جا کے ٹھہر جاتے ہیں کیونکہ ترقی کرنے کی طرف توجہ نہیں ہوتی۔” اور آخر ان کا انجام بخیر نہیں ہوتا۔اللہ تعالیٰ نے قرآن شریف