اَلْاَزْھَارُ لِذَوَاتِ الْخِمَارِ یعنی اوڑھنی والیوں کیلئے پھول (جلد سوم حصہ دوم)

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 18 of 156

اَلْاَزْھَارُ لِذَوَاتِ الْخِمَارِ یعنی اوڑھنی والیوں کیلئے پھول (جلد سوم حصہ دوم) — Page 18

الازهار لذوات الخمار جلد سوم حصہ دوم 18 بر موقع اجتماع جرمنی 2006 مستورات سے خطاب مقام کے لوگوں کو ہی موقع ملتا اس صورت میں کہ اپنی صلاحیتوں کا اظہار کر کے دوسروں کو فائدہ پہنچا سکتے۔تو بہر حال ذکر میں کر رہا تھا عورتوں کا کہ عورتوں کے لئے بھی کسی بھی سطح پر علمی، روحانی یا جسمانی صحت کے بہتر کرنے کے مواقع میسر نہ تھے یا احمدی عورت کے لئے احمدی معاشرے میں اس طرح کے مواقع میسر نہ تھے۔لجنہ کی تنظیم کے قیام سے آپ کو ! احمدی عورت کو اللہ تعالیٰ نے وہ مواقع میسر فرما دیئے جہاں آپ اپنے علم اور تجربے سے دوسروں کو بھی فائدہ پہنچاسکتی ہیں اور اپنی صلاحیتوں اور اہلیتوں کو مزید چپکا سکتی ہیں۔پس اس موقع سے فائدہ اٹھائیں اور اللہ تعالیٰ کا یہ موقع آپ کو مہیا فرمانے پر شکر گزار بندی بن جائیں اور اس اولوالعزم موعود بیٹے کے لئے بھی دعا کریں جس کی دور رس نگاہ نے جماعت کے ہر طبقے پر نظر رکھتے ہوئے اُسے جماعت کا مفید وجود بنانے کی کوشش کی۔اس شکر گزاری کے لئے جو اللہ تعالیٰ کے ایک بندے یا بندی کو اس کے احسانوں پر اُس کی کرنی چاہئے۔نماز ذکر اور عبادت کا بہترین ذریعہ بہترین ذریعہ اُس کی یاد اور اُس کا ذکر ہے۔اور اُس کے ذکر اور عبادت کا بہترین ذریعہ اللہ تعالیٰ کے بتائے ہوئے طریق کے مطابق نمازوں کی ادائیگی ہے۔اس میں پانچ وقت کی نمازیں بھی ہیں اور نوافل کی ادائیگی بھی ہے۔یہ حکم مردوں اور عورتوں سب کے لئے یکساں ہے۔اس لئے ہم دیکھتے ہیں کہ صحابیات اور نیک عورتیں جو اسلام میں گزری ہیں پہلے وہ نمازوں کی بڑی پابندی کیا کرتی تھیں بلکہ روایات میں آتا ہے کہ ان عبادات میں مردوں سے آگے بڑھ جاتی تھیں یا اُن سے آگے بڑھنے کی کوشش کرتی تھیں۔ساری ساری رات نوافل کی ادائیگی میں گزارتی تھیں اور دن کو روزے رکھا کرتی تھیں یہاں تک کہ اُن کے خاوندوں کو آنحضرت کے پاس آکر یہ عرض کرنی پڑی کہ ان کو اتنی عبادت کرنے سے روکیں کیونکہ خاوندوں کے اور بچوں کے اور گھروں کے بھی کچھ حقوق ہیں جوان کو ادا کرنے چاہئیں۔اس زمانے میں بھی دیکھتے ہیں کہ عبادت کرنے والی خواتین ایسی ہیں جن کے خاص معیار تھے عبادتوں کے ، نمازوں کو کبھی ضائع کرنے والی نہیں، نوافل کی ادائیگی کرنے والی تھیں اور اتنی پابندی سے پانچ وقت کی نمازیں ادا کرتی تھیں کہ ان کو دیکھ کر گھڑی کے وقت بھی درست کئے جاسکتے تھے۔اس وقت میں یہاں حضرت اماں جان حضرت سیدہ نصرت جہاں بیگم صاحبہ