اَلْاَزْھَارُ لِذَوَاتِ الْخِمَارِ یعنی اوڑھنی والیوں کیلئے پھول (جلد سوم حصہ دوم) — Page 148
الازھار لذوات الخمار جلد سوم حصہ دوم 148 خطبہ جمعہ فرمودہ 16 نومبر 2007 ہیں۔وہ اگر خاموش بھی ہے بلکہ رجوع کرنے پر رضا مند بھی ہے تو قریبی شور مچا دیتے ہیں کہ ایک دفعہ طلاق ہو گئی اب ہم لڑکی کو واپس نہیں بھیجیں گے۔انا اور عزتوں کے معاملے اٹھ جاتے ہیں۔کئی معاملات میرے پاس بھی آتے ہیں۔حیرت ہوتی ہے جب بعض دفعہ جھوٹی غیرت دکھاتے ہوئے اپنی بچیوں کے گھر برباد کر رہے ہوتے ہیں۔بعض بچیاں پھر خط لھتی ہیں کہ ہم دونوں میاں بیوی اب بسنا چاہتے ہیں لیکن دونوں طرف کے والدین کی اناؤں نے یہ مسئلہ بنالیا ہے۔تو اللہ تعالیٰ فرماتا ہے که رشتہ داروں کو اس تعلق کے دوبارہ قائم ہونے میں روک نہیں بننا چاہئے۔اگر مرد کو اپنی غلطی کا احساس ہو گیا ہے تو پھر جھوٹی غیرتوں کے نام پر لڑکی کا گھر برباد نہیں کرنا چاہئے۔پھر اللہ تعالیٰ عورت کے حقوق کی حفاظت کرتے ہوئے فرماتا ہے کہ عورتوں کا دستور کے مطابق مردوں پر اتنا ہی حق ہے جتنا مردوں کا عورتوں پر۔یہ آیت تو میں نے پڑھی تھی۔اس کا ترجمہ بھی پڑھ دیتا ہوں۔فرمایا کہ اور مطلقہ عورتوں کو تین حیض تک اپنے آپ کو روکنا ہوگا اور ان کے لئے جائز نہیں اگر وہ اللہ اور یوم آخرت پر ایمان لاتی ہیں کہ وہ اس چیز کو چھپائیں جو اللہ نے ان کے رحموں میں پیدا کر دی ہے۔اور اس صورت میں ان کے خاوند زیادہ حقدار ہیں کہ انہیں واپس لے لیں اگر وہ اصلاح چاہتے ہیں۔اور ان عورتوں کا دستور کے مطابق مردوں پر اتنا ہی حق ہے جتنا مردوں کا ان پر ہے حالانکہ مردوں کو ان پر ایک قسم کی فوقیت بھی ہے اور اللہ کامل غلبے والا اور حکمت والا ہے۔پس انسان ہونے کے ناطے اور ایک ایسے رشتے کے لئے جو ایک عہد پر قائم ہوا ہے مردوں کو بھی حکم ہے کہ عورت کے حقوق ادا کر و۔عورت کو بھی حکم ہے کہ مردوں کے حقوق ادا کرو۔اور جب دونوں ایک دوسرے کے حقوق کا خیال رکھو گے تو رشتہ پائیدار ہوگا۔پس یہ حکم عورت کے حق قائم کرنے والا ہے۔اسلام کے یہی خوبصورت احکامات تھے جنہوں نے معاشرے کی کایا پلٹ دی۔اسلام سے پہلے عربوں نے عورتوں کو ہر قسم کے حق سے محروم کیا ہوا تھا بلکہ کسی مذہب نے بھی اس طرح حقوق قائم نہیں کئے جس طرح اسلام نے کئے ہیں۔آنحضرت ﷺ نے بے شمار جگہ عورتوں کے حق قائم فرمائے۔آنحضرت ﷺ فرماتے ہیں خَيْرُكُمْ خَيْرُكُمْ لا تَهْلِهِ وَ أَنَا خَيْرُكُمْ لِأَهْلِيْ سنن ترمذی باب فضل ازواج النبی ﷺ ) یعنی تم میں سے خدا کے نزدیک بہترین شخص وہ ہے جو