اَلْاَزْھَارُ لِذَوَاتِ الْخِمَارِ یعنی اوڑھنی والیوں کیلئے پھول (جلد سوم حصہ دوم)

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 146 of 156

اَلْاَزْھَارُ لِذَوَاتِ الْخِمَارِ یعنی اوڑھنی والیوں کیلئے پھول (جلد سوم حصہ دوم) — Page 146

الازهار لذوات الخمار جلد سوم حصہ دوم 146 خطبہ جمعہ فرمود 160 نومبر 2007 تو یہاں اللہ تعالیٰ نے بیوہ کا ایک مدت تک اپنے خاوند کے گھر میں رہنے کا حق قائم کر دیا۔عورت کے بارے میں یہ تو حکم ہے کہ وہ اپنے خاوند کے گھر میں بیوگی کی صورت میں اپنی عدت پوری کرے جو 4 ماہ 10 دن تک ہے لیکن اس کے بعد بھی ایک سال تک رہ سکتی ہے اگر وہ چاہے۔حضرت خلیفتہ لمسیح الثانی رضی اللہ تعالی عنہ اس بات کارجحان رکھتے تھے اور اس سے یہ استنباط کرتے تھے کہ عدت کی مدت کے علاوہ جو چار ماہ دس دن ہے، ایک سال کی اجازت ہے۔آپ کا یہ رجحان تھا کہ عورت کو جتنی زیادہ سے زیادہ سہولت دی جا سکتی ہے اس آیت کی رُو سے دینی چاہئے۔بعض دفعہ جب جائیداد کی تقسیم ہو تو اگر مرنے والے کا مکان ہو تو جو مکان ورثے میں چھوڑ کر جاتا ہے وہ اگر کسی اور کے حصے میں آ گیا ہے تو اللہ تعالی فرماتا ہے کہ تب بھی وہ صبر کرے اور ایک سال تک عورت کو تنگ نہ کرے، بیوہ کو تنگ نہ کرے۔کیونکہ حضرت خلیفتہ المسیح الثانی نے بھی یہ لکھا ہے اور آج بھی یہ اسی طرح ہو رہا ہے کہ اگر مثلاً عورت کے اولاد نہیں ہے یا کسی کے دو بیویاں ہیں یا تھیں تو پہلی بیوی کی اولا دیا اگر عورت کے اولاد نہیں تو مرد کے والدین یا اور دوسرے رشتہ دار، بیوہ، جس کے حصے میں مکان کی جائیداد نہ آئی ہو، اسے نکالنے کی کوشش کرتے ہیں۔اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ ایک سال تک اس کا حق ہے اور کسی وارث کا حق نہیں بنتا کہ اس معاملے میں بیوہ پر دباؤ ڈالا جائے اور اسے تنگ کیا جائے ہاں اگر وہ خود جانا چاہیں تو بیوگی کی عدت پوری کر کے جاسکتی ہیں۔یہ فیصلہ عورت کے اختیار میں دیا گیا ہے۔عورت کو حق دیا گیا ہے کہ وہ معروف فیصلہ کرے یعنی ایسا فیصلہ جو قانون اور شریعت کے مطابق ہو۔پس ہمیشہ یادرکھو کہ یہ عزیز اور حکیم خدا کا حکم ہے۔آخر میں اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ اگر تم عورتوں کو ان کی کمزوری سے فائدہ اٹھاتے ہوئے مجبور کرو گے اور اس کے رشتہ داروں اور قریبیوں میں بھی اگر اس کو سنبھالنے والا کوئی نہیں ہوگا تو اس کی مجبوری سے کوئی دوسرا نا جائز فائدہ بھی اٹھا سکتا ہے۔تو اللہ تعالیٰ نے ہر چھوٹے سے چھوٹے اور دُور کے امکان کو بھی مدنظر رکھتے ہوئے انتہائی پر حکمت حکم فرمایا ہے۔عورت کے خاوند کے قریبیوں کو بھی تنبیہ کی ہے کہ ہمیشہ یادرکھو کہ خدا کی ذات عزیز اور غالب ہے۔اگر اس کے حکموں پر عمل نہیں کرو گے تو اس کی پکڑ کے نیچے آؤ گے۔اس میں ایک اور بات کی طرف بھی اشارہ ہے۔ایک تو جیسا کہ ذکر ہو چکا ہے کہ عورت کو