اَلْاَزْھَارُ لِذَوَاتِ الْخِمَارِ یعنی اوڑھنی والیوں کیلئے پھول (جلد سوم حصہ دوم)

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 145 of 156

اَلْاَزْھَارُ لِذَوَاتِ الْخِمَارِ یعنی اوڑھنی والیوں کیلئے پھول (جلد سوم حصہ دوم) — Page 145

الازهار لذوات الخمار جلد سوم حصہ دوم 45 145 خطبه جمعه فرموده 16 نومبر 2007 معاشرے کے ایک اور کمزور طبقہ عورت کے حقوق قرآن کریم کی آیات کی روشنی میں عورت بیوہ اور مطلقہ ) کے حقوق سے متعلق ایک تفصیلی خطبہ جمعہ ارشاد فرمایا جس سے ایک طویل اقتباس پیش ہے: پھر دوسری آیت جو میں نے تلاوت کی ہے اس میں معاشرے کے ایک اور کمزور طبقہ یعنی بیوہ کا ذکر ہے۔ایک تو عورت ویسے ہی عموماً معاشرے میں کمزور کبھی جاتی ہے۔اس پر اگر وہ بیوہ ہو جائے تو اکثر معاشرے اس کے حقوق کا خیال نہیں رکھتے۔خاص طور پر کم ترقی یافتہ معاشروں میں اور ایسے معاشروں میں بعض پڑھے لکھے جو لوگ ہیں وہ بھی پھر ماحول کے زیر اثر زیادتی کر جاتے ہیں۔مسلمانوں کو تو خاص طور پر عورتوں کے حقوق کی حفاظت کی طرف توجہ دینی چاہئے کیونکہ خدا تعالیٰ نے بار بار اس طرف توجہ دلائی ہے۔ترقی یافتہ ممالک تو آج عورت کے حقوق کا نعرہ لگارہے ہیں لیکن ہمیں تو قرآن کریم نے چودہ صدیاں پہلے ہی ان حقوق کی طرف توجہ دلا دی اور اگر اُس زمانے کی معاشرتی روایات کو سامنے رکھ کر دیکھیں تو حیرت ہوتی ہے لیکن نہ صرف اللہ تعالیٰ نے عورت کے حقوق قائم کئے بلکہ اُس معاشرے میں جہاں بالکل حقوق ادا نہیں کئے جاتے تھے صحابہ کی کایا پلٹ گئی اور ان پر عمل کر کے دکھایا۔اس آیت کا ترجمہ یہ ہے، اور تم میں سے جو لوگ وفات دیئے جائیں اور بیویاں پیچھے چھوڑ رہے ہوں ان کی بیویوں کے حق میں یہ وصیت ہے کہ وہ اپنے گھروں میں ایک سال تک فائدہ اٹھائیں اور نکالی نہ جائیں ہاں اگر وہ خود نکل جائیں تو تم پر کوئی گناہ نہیں، اس بارہ میں وہ خود جو معروف فیصلہ کریں اور اللہ کامل غلبہ والا اور صاحب حکمت ہے۔