اَلْاَزْھَارُ لِذَوَاتِ الْخِمَارِ یعنی اوڑھنی والیوں کیلئے پھول (جلد سوم حصہ دوم) — Page 103
الازهار لذوات الخمار جلد سوم حصہ دوم 103 جلسہ سالانہ جرمنی 2007 مستورات سے خطاب اپنے عہد کو پورا کرتے ہوئے ، اپنے اعمال درست کرنے ہیں وہاں اپنی نسلوں کو جو ملک اور جماعت کی امانت ہیں، ایسے رنگ میں پروان چڑھانا ہے جہاں اس کا خدا سے تعلق پیدا ہو جائے۔اور دنیا کی لغویات سے نفرت پیدا ہو جائے۔ہر احمدی عورت کو ہر احمدی مردکو، ہر وقت یہ ذہن میں رکھنا چاہیے کہ ہم کیوں احمدی ہیں اور ہمیں کیوں اپنی نسلوں میں احمدیت اور حقیقی اسلام کی تعلیم کو جاری رکھنا ہے۔ہر وقت یہ پیش نظر رہے کہ اس فساد کے زمانے میں، جب دنیا دین سے دُور ہٹ رہی ہے، ہم کس طرح اپنے آپ کو اور اپنے بچوں کو دین کے قریب لا سکتے ہیں۔پس جب یہ سوچ پیدا ہوگی تو پھر آپ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کی بیعت میں شامل ہونے والوں میں شمار ہوں گی۔پس ہر احمدی عورت جو اپنا تعلق حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی جماعت سے رکھنا چاہتی ہے صرف سرسری تعلق نہیں بلکہ وہ تعلق جو اللہ تعالیٰ کے دفتر میں بھی آپ کو حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کی جماعت میں شمار کرے تو پھر بہت توجہ سے پہلے اپنی حالتوں پر نظر ڈالتے ہوئے اُس میعار کو حاصل کرنے کی کوشش کریں جو حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام آپ کا دیکھنا چاہتے ہیں۔اپنی مرضی کو حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کی مرضی کے تابع کریں تا کہ اُن انعاموں کی وارث بنیں جن کا وعدہ اللہ تعالیٰ نے حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام سے آپ کی جماعت کے لئے کیا ہے۔آپ اپنی مرضی کو حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کی مرضی کے تابع کس طرح کر سکتی ہیں، اُس کی ایک ہی صورت ہے۔اور وہ ہے اللہ تعالیٰ نے قرآن کریم میں جو تعلیم اتاری ہے اور جو احکامات دیئے ہیں ان پر عمل کر کے۔جیسا کہ پہلے بتایا ہے آپ فرماتے ہیں کہ تم ہوشیار رہو اور خدا کی تعلیم اور قرآن کی ہدایت کے برخلاف ایک قدم بھی نہ اٹھاؤ۔پس آج اگر اپنے آپ کو اور اپنی نسلوں کو دنیا کے فتنہ وفساد سے بچانا ہے اور دنیا و آخرت میں اللہ تعالیٰ کی رضا حاصل کرنی ہے، اس کا ایک ہی راستہ ہے کہ خدا تعالیٰ کی تعلیم پر عمل کیا جائے۔جو احکامات اللہ تعالیٰ نے ہمیں قرآنِ کریم میں بتائے ہیں ان پر عمل کرنے کی کوشش کرنے والی ہوں۔تا کہ اپنی روحانی ترقی کے ساتھ ساتھ اپنے سپر د جماعت کی امانتوں کی بھی صحیح رنگ میں حفاظت کرتے ہوئے ، ان کو بھی خدا تعالیٰ کے احکامات کا فہم حاصل کرنے اور ان کو اپنی زندگیوں پر لاگو کرنے کا ذریعہ نہیں۔