اَلْاَزْھَارُ لِذَوَاتِ الْخِمَارِ یعنی اوڑھنی والیوں کیلئے پھول (جلد سوم حصہ دوم)

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 99 of 156

اَلْاَزْھَارُ لِذَوَاتِ الْخِمَارِ یعنی اوڑھنی والیوں کیلئے پھول (جلد سوم حصہ دوم) — Page 99

الازهار لذوات الخمار جلد سوم حصہ دوم 99 جلسہ سالانہ جرمنی 2007 مستورات سے خطاب ہوگی اس لئے یہ مستقل حکم اتارا ہے کہ منہ سے کہنے سے اللہ کی بندیاں نہیں بنو گی تم لوگ بلکہ جو نصائح کی جاتی ہیں ، جو احکامات قرآنِ کریم میں دیئے گئے ہیں ان پر عمل کر کے حقیقی مومن کہلاؤ گی۔پس اپنے جائزے لیں۔خود دیکھیں کہ کیا ہیں اور اپنے نفس کو دھوکا نہ دیں۔مردوں سے میل جول میں بھی بے حجابی نہ دکھا ئیں کہ حیا بھی ختم ہو جاتی ہے اس سے۔حدیث میں تو حکم ہے کہ مردوں سے اگر باتیں بھی کر رہے ہو تو لہجہ بھی تمہارا ذرا سخت ہونا چاہیے۔تو عورت کی ایک بہت بڑی زینت اس کی حیا ہے۔ایک مومن کی نشانی حیا ہے۔اس ضمن میں ایک اور بات بھی میں کہہ دوں کہ بعض شکایات ملتی ہیں کہ شادیوں پر ڈانس ہوتا ہے اور ڈانس میں انتہائی بے حیائی سے جسم کی نمائش ہوتی ہے۔یہ انتہائی بیہودگی ہے۔یاد رکھیں کہ لڑکیوں کو لڑکیوں کے سامنے بھی ڈانس کی اجازت نہیں ہے۔بہانے یہ بنائے جاتے ہیں کہ ورزش میں بھی تو جسم کے مختلف حصوں کو حرکت دی جاتی ہے۔پہلی بات تو یہ کہ ورزش ہر عورت یا بچی علیحدگی میں کرتی ہے یا ایک آدھ کسی کے سامنے کر لی۔اگر ننگے لباس میں لڑکیوں کے سامنے بھی اس طرح کی ورزش کی جارہی ہے یا کلب میں جا کر کی جا رہی ہے تو یہ بھی بیہودگی ہے۔ایسی ورزش کی بھی اجازت نہیں دی جاسکتی۔دوسرے ڈانس کرتے وقت آپ کے جذ بات بالکل اور ہوتے ہیں۔ورزش کرتے وقت تو تمام توجہ ورزش پر ہوتی ہے اور کوئی لغو اور بیہودہ خیال ذہن میں نہیں آرہا ہوتا لیکن ڈانس کے وقت یہ کیفیت نہیں ہو رہی ہوتی۔جو ڈانس کر نے والیاں ہیں وہ خوداگر انصاف سے دیکھیں تو خودان کو پتہ لگ جائے گا کہ کیا کیفیت طاری ہورہی ہوتی ہے ان پر اس وقت۔پھر ورزش جو ہے کسی میوزک پر یا تال کی تھاپ پر نہیں کر رہے ہوتے جبکہ ڈانس کے لئے میوزک بھی لگایا جاتا ہے اور بڑے بیہودہ گانے بھی شادیوں پر بجتے ہیں حالانکہ شادیوں کے لئے بڑے پاکیزہ گانے بھی ہیں اور جو رخصتی ہو رہی ہو تو لڑکی کو رخصت کرتے وقت ہماری بڑی اچھی دعائیہ نظمیں بھی ہیں، وہ استعمال ہونی چاہئیں۔اور اسی لئے جب اس قسم کی بیہودگی ہو رہی ہوتی ہے تو بعض اوقات جذبات اور رنگ اختیار کر لیتے ہیں۔پس یہ سب بہانے ہیں کہ فلاں چیز ویسی ہے اور فلاں چیز ویسی ہے۔یہ سب ایمان کو خراب کرنے والی چیزیں ہیں۔یہ سب شیطان کے بہکاوے ہیں جن سے بچنے کی کوشش کریں ورنہ لاشعوری طور پر جہاں اپنے آپ کو خراب کر رہی ہوں گی وہاں اپنی اگلی نسلوں کو بھی برباد کر رہی ہوں گی۔