اَلْاَزْھَارُ لِذَوَاتِ الْخِمَارِ یعنی اوڑھنی والیوں کیلئے پھول (جلد سوم حصہ دوم) — Page 96
الازهار لذوات الخمار جلد سوم حصہ دوم 96 جلسہ سالانہ جرمنی 2007 مستورات سے خطاب رہی ہوں۔وہی ذکر زیادہ چلتا رہے۔سال میں تین سو پینسٹھ دن ہوتے ہیں۔اگر دین سیکھنے کی خاطر اجتماع اور جلسے کے دن ملا کر گل پانچ دن یا چھ دن بھی آپ دین سیکھنے کے لئے نہیں دے سکتیں، اپنے آپ کو دنیا کے کاموں سے کلیہ علیحدہ نہیں کر سکتیں تو اپنے روحانی معیار اونچے کرنے کی کوشش کرنے والی کس طرح کہلا سکتی ہیں۔اور جب آپ لوگ پوری توجہ سے جلسے کے پروگرام نہیں سنیں گے تو لاشعوری طور پر بچوں پر بھی اس کا اثر پڑ رہا ہو گا کہ جلسہ بھی ایک طرح کا میلہ ہے۔حضرت مسیح موعود نے اس سوچ کو بڑی سختی سے رد فرمایا ہے۔پس پہلی بات تو یہ کہ اپنے آپ کو مکمل طور پر ان دنوں میں دین سیکھنے اور روحانیت میں ترقی کرنے کے لئے وقف کریں۔تقریباً ڈیڑھ دن گزر گیا ہے اور ڈیڑھ دن ہی باقی رہ گیا ہے۔اس میں اب خاص اہتمام کریں۔بجائے اس کے کہ ڈیوٹی والیاں آپ کو توجہ دلائیں کہ جلسہ سنو، باتیں کر رہی ہوں تو آپ کو خاموش کروائیں کہ تقریر میں سنو۔آپ خود اس طرف توجہ کریں۔عاجزی اختیار کرو، عاجزی بہت سے جھگڑوں سے بچاتی ہے پھر اللہ تعالیٰ ہمیں ایک نصیحت فرماتا ہے اس سورۃ الفرقان میں جس کی ایک آیت کی میں نے تلاوت کی ہے، جیسا کہ میں نے بتایا اور جس کی بعض آیات آپ نے سنی ہیں کہ رحمان کے نیک بندوں میں عاجزی ہوتی ہے، تکبر سے وہ دُور ہوتے ہیں۔یہ ایک ایسی بات ہے جس کی بہت اہمیت ہے تبھی تو اللہ تعالیٰ نے اس کا ذکر فرمایا ہے کہ یہ عاجزی ہے جو بہت سے جھگڑوں سے بچاتی ہے اور یہ تکبر ہے جو بہت سے فسادوں کا ذریعہ بنتا ہے۔اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ اگر تم حقیقت میں میری بندی بننا چاہتی ہو تو عاجزی اختیار کرو۔اگر کوئی تمہارے سامنے جہالت کا اظہار کرتے ہوئے ہتکبر سے کام لیتے ہوئے ایسی باتیں کر بھی جائے جو نا مناسب ہوں تو تمہارار د عمل ویسا ہی نہ ہو جیسا دوسرے کا ہے بلکہ تمہارے اندر سے ہر ایک کے لئے سلامتی کی خوشبو پھوٹے۔عورتوں میں بھی چھوٹی چھوٹی باتوں پر جھوٹی اناؤں اور غیرت کی وجہ سے ایسی لڑائیاں ہوتی ہیں جو مردوں کو بھی ، بچوں کو بھی اور دونوں طرف کے خاندانوں کو بھی اپنی لپیٹ میں لے لیتی ہیں۔پس ہمیشہ یادرکھیں کہ اللہ تعالیٰ کی نصیحت یہ ہے کہ اگر اللہ کا پیار حاصل کرنا ہے تو ان جھوٹی اناؤں کو ختم کرو اور عاجزی دکھاتے ہوئے ہر ایک کے