اَلْاَزْھَارُ لِذَوَاتِ الْخِمَارِ یعنی اوڑھنی والیوں کیلئے پھول (جلد سوم حصہ اوّل)

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 92 of 377

اَلْاَزْھَارُ لِذَوَاتِ الْخِمَارِ یعنی اوڑھنی والیوں کیلئے پھول (جلد سوم حصہ اوّل) — Page 92

الازھار لذوات الخمار جلد سوم حصّہ اوّل 92 لجنہ اماءاللہ برطانیہ کی استقبالیہ تقریب 2004 سے خطاب حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی وفات ہوگئی ہے اب احمدیت چند دن کی مہمان ہے۔پھر خلافت ثانیہ میں جب اندرونی فتنہ بھی اٹھا اور ایسے لوگ جو خلافت کے منکر تھے ان کو پیغامی بھی کہا جاتا ہے اور لاہوری بھی اور غیر مبایعین بھی، انہوں نے بڑا زور لگایا کہ انجمن اب حقدار ہونی چاہئے نظام جماعت کو چلانے کی اور خلافت کی کوئی ضرورت نہیں ہے۔حضرت مصلح موعوددؓ کی عمر اس وقت صرف 24 سال تھی اور بڑے بڑے پڑھے لکھے علماء اور دین کا علم رکھنے والے اور جو اس وقت احمدیت کے نظام جماعت کے ستون سمجھے جاتے تھے وہ سب علیحدہ ہو گئے اور کچھ لوگ حضرت خلیفۃ مسیح الثانی کے ساتھ رہے۔لیکن ہم نے دیکھا کہ حضرت خلیفتہ اسیح الثانی کا 52 سالہ دور خلافت ہر روز ترقی کی نئی منزل طے کرتا تھا۔آپ کے دور میں افریقہ میں بھی مشن کھلے، یورپ میں بھی مشن کھلے اور خلافت کے دس سال بعد ہی یہاں لندن میں آپ نے اس مسجد کی بنیاد بھی رکھی۔پھر خلافت ثالثہ کا دور آیا۔اس میں بھی خاص طور پر افریقن ممالک میں اور ان افریقن ممالک میں جو انگلستان کی کالونیز رہیں کسی زمانے میں، ان میں احمدیت خوب پھیلی اور کافی حد تک Establish ہوگئی۔پھر خلافت رابعہ کے دور میں ہم نے ہر روز ترقی کا ایک نیا سورج چڑھتا دیکھا۔افریقہ میں بھی یورپ میں بھی ایشیا میں بھی۔پھر MTA کے ذریعہ سے دنیا کے کونے کونے تک جماعت کی آواز پھیلی۔تو یہ ترقیات جس طرح حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے فرمایا کہ دوسری قدرت کا آنا ضروری ہے کیونکہ وہ دائی ہے اور ہمیشہ رہنے والی ہے، اور ہمیشہ وہی چیز میں رہا کرتی ہیں جو اپنی ترقی کی منازل طے کرتی چلی جائیں تو اللہ تعالیٰ کے فضل سے خلافت سے وابستگی کی وجہ سے جماعت ترقی کرتی چلی گئی۔حضور ایدہ اللہ نے فرمایا کہ حضرت خلیفہ المسیح الرابع کی وفات کے بعد جب اللہ تعالیٰ نے مجھے یہ منصب دیا تو با وجود اس خوف کے جو میرے دل میں تھا کہ جماعت کس طرح چلے گی، اللہ تعالیٰ نے خود ہر چیز اپنے ہاتھ میں لی۔اور جو ترقی کا قدم جس رفتار سے بڑھ رہا تھا اسی طرح بڑھتا چلا گیا اور چلتا چلا جا رہا ہے کیونکہ یہ خدا تعالیٰ کا وعدہ ہے۔حضرت اقدس مسیح موعود سے خدا کا یہ وعدہ ہے کہ میں تیری جماعت کو زمین کے کناروں تک پہنچاؤں گا تو اللہ تعالیٰ کے فضل سے زمین کے کناروں تک پہنچ