اَلْاَزْھَارُ لِذَوَاتِ الْخِمَارِ یعنی اوڑھنی والیوں کیلئے پھول (جلد سوم حصہ اوّل) — Page 87
الازهار لذوات الخمار جلد سوم حصہ اوّل 87 خطبہ جمعہ 30 جنوری 2004 بمقام بیت الفتوح لندن سکتے۔یا یوں کہو کہ سخت خطرہ میں پڑ جاتے ہیں۔اس لئے خدائے تعالیٰ نے ہمیں یہ تعلیم نہیں دی کہ ہم نامحرم عورتوں کو بلا تکلف دیکھ تو لیا کریں اور ان کی تمام زمینوں پر نظر ڈال لیں اور ان کے تمام انداز ناچنا وغیرہ مشاہدہ کر لیں لیکن پاک نظر سے دیکھیں۔اور نہ یہ تعلیم ہمیں دی ہے کہ ہم ان بریگا نہ جوان عورتوں کا گانا بجانا سن لیں اور ان کے حسن کے قصے بھی سنا کریں لیکن پاک خیال سے سنیں۔بلکہ ہمیں تاکید ہے کہ ہم نامحرم عورتوں کو اور ان کی زینت کی جگہ کو ہر گز نہ دیکھیں۔نہ پاک نظر سے اور نہ نا پاک نظر سے۔اور ان کی خوش الحانی کی آواز میں اور ان کے حسن کے قصے نہ سنیں۔نہ پاک خیال سے اور نہ ناپاک خیال سے۔بلکہ ہمیں چاہئے کہ ان کے سننے اور دیکھنے سے نفرت رکھیں جیسا کہ مردار سے، تا ٹھوکر نہ کھاویں۔کیونکہ ضرور ہے کہ بے قیدی کی نظروں سے کسی وقت ٹھوکریں پیش آویں۔سوچونکہ خدا تعالیٰ چاہتا ہے کہ ہماری آنکھیں اور دل اور ہمارے خطرات سب پاک رہیں اس لئے اس نے یہ اعلیٰ درجہ کی تعلیم پھر فرمایا: 66 فرمائی۔اس میں کیا شک ہے کہ بے قیدی ٹھوکر کا موجب ہو جاتی ہے۔“ اسلامی اصول کی فلاسفی ، روحانی خزائن جلد 10 صفحہ 343) خدائے تعالیٰ نے چاہا کہ انسانی قومی کو پوشیدہ کارروائیوں کا موقع بھی نہ ملے اور ایسی کوئی بھی تقریب پیش نہ آئے جس سے بد خطرات جنبش کر سکیں“۔اسلامی اصول کی فلاسفی ، روحانی خزائن جلد 10 صفحہ 344) پھر آپ عورتوں کے لئے پر دے کے بارہ میں فرماتے ہیں: شرعی پردہ یہ ہے کہ چادر کو حلقہ کے طور پر کر کے اپنے سر کے بالوں کو کچھ حصہ پیشانی اور زنخدان کے ساتھ بالکل ڈھانک لیں اور ہر ایک زینت کا مقام ڈھانک لیں۔مثلاً منہ پر اردگر داس طرح پر چادر ہو ( اس جگہ انسان کے چہرہ کی شکل دکھا کر جن مقامات پر پردہ نہیں ہے اُن کو گھلا رکھ کر باقی پردہ کے نیچے