اَلْاَزْھَارُ لِذَوَاتِ الْخِمَارِ یعنی اوڑھنی والیوں کیلئے پھول (جلد سوم حصہ اوّل) — Page 82
الازهار لذوات الخمار جلد سوم حصہ اوّل 82 خطبہ جمعہ 30 جنوری 2004 بمقام بیت الفتوح لندن رات انہوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ فرماتے ہوئے سنا: آگ اس آنکھ پر حرام ہے جو اللہ تعالیٰ کی راہ میں بیدار رہی۔اور آگ اس آنکھ پر حرام ہے جو اللہ تعالیٰ کی خشیت کی وجہ سے آنسو بہاتی ہے۔پھر اس روایت میں یہ بھی ہے کہ آگ اس آنکھ پر بھی حرام ہے جو اللہ تعالیٰ کی حرام کردہ اشیاء کو دیکھنے کی بجائے جھک جاتی ہے۔اور اس آنکھ پر بھی حرام ہے جو اللہ عز وجل کی راہ میں پھوڑ دی گئی ہو۔(سنن دارمی، كتاب الجهاد، باب في الذي يسهر في سبيل الله حارساً) تو دیکھیں غض بصر کا کتنا بڑا مقام ہے کہ اللہ تعالیٰ کی عبادت کرنے والوں اور اس کی راہ میں جہاد کرنے والوں، شہید ہونے والوں یا دوسرے لفظوں میں اللہ تعالیٰ کی طرف جھکنے والی آنکھ کا رتبہ ایسے لوگوں کو حاصل ہو رہا ہے۔اس حکم پر عمل کرتے ہوئے ، ہمیشہ عبادت بجالانے والے ہوں گے اور اللہ تعالیٰ کا قرب پانے والے ہوں گے۔حضرت ابو سعید خدری روایت کرتے ہیں کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: راستوں پر مجلسیں لگانے سے بچو۔صحابہ نے عرض کی، یا رسول اللہ علیہ ہمیں رستوں میں مجلسیں لگانے کے سوا کوئی چارہ نہیں۔اس پر رسول اللہ ﷺ نے فرمایا پھر رستے کا حق ادا کرو۔انہوں نے عرض کی کہ اس کا کیا حق ہے؟ آپ نے فرمایا کہ ہر آنے جانے والے کے سلام کا جواب دو، غض بصر کرو، راستہ دریافت کرنے والے کی رہنمائی کرو، معروف باتوں کا حکم دو اور ناپسندیدہ باتوں سے روکو۔“ (مسند احمد بن حنبل جلد 3 صفحه 61 مطبوعه بیروت) دیکھیں کس قدر تاکید ہے کہ اول اگر کام نہیں ہے تو کوئی بلا وجہ راستے میں نہ بیٹھے۔اور اگر مجبوری کی وجہ سے بیٹھنا ہی پڑے تو پھر راستے کا حق ادا کرو۔بلا وجہ نظریں اٹھا کے نہ بیٹھے رہو بلکہ غض بصر سے کام لو، اپنی نظروں کو نیچارکھو، کیونکہ یہ نہیں کہ ایک دفعہ نظر پڑ گئی تو پھر ایک سرے سے دیکھنا شروع کیا اور دیکھتے ہی چلے گئے۔ام المؤمنین حضرت ام سلمہ بیان کرتی ہیں کہ میں آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس تھی اور میمونہ بھی ساتھ تھیں تو ابن ام مکتوم آئے یہ پردہ کے حکم کے نزول سے بعد کی بات ہے تو