اَلْاَزْھَارُ لِذَوَاتِ الْخِمَارِ یعنی اوڑھنی والیوں کیلئے پھول (جلد سوم حصہ اوّل) — Page 83
الازهار لذوات الخمار جلد سوم حصہ اوّل آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ 83 خطبہ جمعہ 30 جنوری 2004 بمقام بیت الفتوح لندن اس سے پردہ کرو ہم نے عرض کی یا رسول اللہ کیا وہ نابینا نہیں؟ نہ وہ ہمیں دیکھ سکتا ہے اور نہ ہی پہچان سکتا ہے تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ کیا تم دونوں بھی اندھی ہو اور تم اس کو دیکھ نہیں رہیں۔(ترمذى كتاب الأدب عن رسول الله باب ما جاء في احتجاب النساء من الرجال) دیکھیں کس قدر پابندی ہے پردہ کی کہ محض بصر کا حکم مردوں کو تو ہے، ساتھ ہی عورتوں کے لئے بھی ہے کہ تم نے کسی دوسرے مرد کو بلا وجہ نہیں دیکھنا۔حضرت جریر سے روایت ہے وہ کہتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے اچانک نظر پڑ جانے کے بارہ میں دریافت کیا۔حضور نے فرمایا " اضرِف بَصَرَک “ اپنی نگاہ ہٹا لو۔(ابو داؤد كتاب النكاح باب فى ما يؤمر به من غض البصر) تو دیکھیں اسلامی پردہ کی خوبیاں۔نظر پڑ جاتی ہے ٹھیک ہے، قدرتی بات ہے۔ایک طرف تو عورت کو یہ فرما دیا کہ تمہیں باہر نکلنے کی اجازت اس صورت میں ہے کہ پردہ کر کے باہر نکلو۔اور جو ظاہری نظر آنے والی چیزیں ہیں، خود ظاہر ہونے والی ہیں ان کے علاوہ زینت ظاہر نہ کرو۔اور دوسری طرف مردوں کو یہ کہہ دیا کہ اپنی نظریں نیچی رکھو، بازار میں بیٹھو تو نظر نیچی رکھو اور اگر نظر پڑ جائے تو فوراً ہٹالو تا کہ نیک معاشرے کا قیام عمل میں آتا رہے۔حضرت عبد اللہ بن عباس رضی اللہ عنہما روایت کرتے ہیں کہ فضل ( بن عباس ) رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پیچھے سوار تھے تو شم قبیلہ کی ایک عورت آئی۔فضل اسے دیکھنے لگ پڑے اور وہ فضل کو دیکھنے لگ گئی۔تو اس پر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فضل کا چہرہ دوسری طرف موڑ دیا۔(بخاری کتاب الحج باب وجوب الحج وفضله) حضرت ابو امامہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ جب کسی مسلمان کی کسی عورت کی خوبصورتی پر نگاہ پڑتی ہے اور وہ غض بصر کرتا ہے تو اللہ تعالی اسے ایسی عبادت کی توفیق دیتا ہے جس کی حلاوت وہ محسوس کرتا ہے۔(مسند أحمد مسند باقى الانصار باب حديث أبي أمامة الباهلي الصدى بن عجلان)