اَلْاَزْھَارُ لِذَوَاتِ الْخِمَارِ یعنی اوڑھنی والیوں کیلئے پھول (جلد سوم حصہ اوّل) — Page 61
الازهار لذوات الخمار جلد سوم حصہ اوّل 61 سالانہ اجتماع ہو کے 2003 لجنہ اماءاللہ سے خطاب مظاہرہ کرنا چاہئے۔اللہ تعالیٰ فرماتا ہے اور یہ خوشخبری دیتا ہے کہ میں صبر کرنے والوں کو بہت بڑا اجر دیتا ہوں۔عاجزی کا نمونہ دکھائیں پھر اس آیت میں عاجزی کے بارے میں فرمایا گیا ہے کہ عاجزی دکھاؤ۔اب کہنے کو تو زبانی کہہ دیتے ہیں کہ میں تو بڑی عاجز ہوں۔مالی لحاظ سے اپنے سے بہتر یا برابر سے تو بڑی جھک جھک کر یا اس level پر باتیں کر رہی ہوتی ہیں کہ احساس نہیں ہوتا کہ کوئی تکبر یا غرور ہے۔لیکن پنت تب چلتا ہے جب اپنے سے مالی لحاظ سے یا مرتبہ کے لحاظ سے کم تر کسی عورت سے باتیں کر رہی ہوں۔اس وقت پھر بعض دفعہ ایسی عورتوں سے جن میں عاجزی نہیں ہوتی رعونت اور تکبر کا اظہار ہورہا ہوتا ہے۔یہ عاجزی نہیں ہے کہ امیروں سے تو عاجزی دکھادی اور غریبوں سے عاجزی نہیں ہوئی۔اب بعض دفعہ یہ اظہار صرف بات چیت سے نہیں ہو رہا ہوتا۔اگر غور کریں تو ایسی عورتوں کا پھر یا ایسے مردوں کا، دونوں اس میں شامل ہیں، آنکھوں سے بھی تکبر ٹپک رہا ہوتا ہے، گردن پر فخر اور تکبر نظر آرہا ہوتا ہے یا چہرے پر تکبر کے آثار نظر آرہے ہوتے ہیں۔تو منہ سے جتنا مرضی کوئی کہے کہ میں تو بڑا عاجز انسان ہوں۔زبان حال سے یہ پتہ چل رہا ہوتا ہے کہ یہ غلط بیانی سے کام لے رہا ہے اور اس میں کوئی عاجزی نہیں۔پھر گھروں میں مثلاً سجاوٹ کی کوئی چیز پڑی ہوئی ہے اس کی کوئی تعریف کر دیتا ہے، تو بڑی عاجزی سے کہہ رہی ہوتی ہیں کہ سنتی سی ہے اور قیمت پوچھو تو پتہ چلتا ہے کہ صاف بناوٹ اور تصنع سے کام لیا ہے۔تو یہ بناوٹ کی باتیں نہیں ہونی چاہئیں۔احمدی معاشرہ ان سے بالکل پاک ہونا چاہئے۔حقیقی انکساری اور عاجزی دکھانی چاہئے۔ہم تو ایک بہت بڑا مقصد لے کر کھڑے ہوئے ہیں اگر دنیاوی نام ونمود اور بناوٹ اور تصنع کے چکر میں پڑ گئے تو پھر ان اہم کا موں کو کون سرانجام دے گا جو ہمارے سپرد کئے گئے ہیں۔اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم نے تو فرمایا ہے کہ جتنا بڑا تمہیں مقام ملے اتنے ہی نیچے جھکتے جاؤ اور اس کے نتیجے میں خدا تمہیں اتنا ہی اونچا کرتا چلا جائے گا۔تو ایمان کا تو یہ مقام ہے کہ اللہ کی ذات