اَلْاَزْھَارُ لِذَوَاتِ الْخِمَارِ یعنی اوڑھنی والیوں کیلئے پھول (جلد سوم حصہ اوّل)

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 62 of 377

اَلْاَزْھَارُ لِذَوَاتِ الْخِمَارِ یعنی اوڑھنی والیوں کیلئے پھول (جلد سوم حصہ اوّل) — Page 62

الازهار لذوات الخمار جلد سوم حصہ اوّل 62 سالانہ اجتماع ہو کے 2003 لجنہ اماءاللہ سے خطاب پر ہی بھروسہ ہونا چاہئے نہ کہ بندوں پر۔اور جس شخص کو ہم نے اس زمانہ میں مانا ہے اور اس کے سلسلہ بیعت میں شامل ہو کر اس کے ہر حکم کو بجالانے کا ہم عہد کرتے ہیں اس کا عمل تو عاجزی کی اس انتہا تک پہنچا ہوا ہے کہ خدا نے بھی خوشنودی کا اظہار کرتے ہوئے فرمایا کہ : ” تیری عاجزانہ را ہیں اسے پسند آئیں۔پس ہر احمدی کو عمومی طور پر اور عہدہ داران کو خصوصی طور پر میں یہ کہتا ہوں کہ عاجزی دکھائیں، عاجزی دکھائیں اور عاجزی کو اپنے اندر اور اپنی ممبرات اور اپنے ممبران کے اندر چاہے مرد ہوں یا عورتیں، پیدا کرنے کی خاص مہم چلائیں۔اس سال اکثر جگہ ذیلی تنظیموں کے انتخابات ہورہے ہیں آپ کا بھی کل ہو گیا۔تو اس خوبصورت خلق کی طرف بھی توجہ دیں اور نئے عزم کے ساتھ توجہ دیں۔عاجزی دکھا کر لوگوں سے دعائیں بھی لیں اور اللہ تعالیٰ کی طرف سے مغفرت اور اجر عظیم کی ضمانت بھی لیں۔پس دیکھیں خدا تعالیٰ تو کس کس طریقے سے اپنے بندوں کی بخشش کے سامان کر رہا ہے کہ عاجزی دکھاؤ تب بھی تمہیں بخش دوں گا۔اب ہم ہی ہیں جو ان باتوں کو نہ سمجھتے ہوئے ان سے دور بھاگ رہے ہیں۔پھر فرمایا صدقہ کرنے والے ہوں۔اب صدقہ ایسی نیکی ہے جس کو کرنے والے کا تو بیڑا پار ہو گیا۔لیکن ایسے لوگ جو تو فیق ہوتے ہوئے ہاتھ روکے رکھتے ہیں ان کے لئے اللہ کے رسول نے بڑا سخت انذار کیا ہے اور تنبیہ کی ہے جیسے کہ حدیث میں آتا ہے کہ ہر صبح دوفرشتے اٹھتے ہیں اور یہ دعا کرتے ہیں کہ اے اللہ خرچ کرنے والے بھی کو اور دے اور اس جیسے اور پیدا کر۔اور دوسرا کہتا ہے کہ روک رکھنے والے ، خرچ نہ کرنے والے، صدقہ خیرات نہ کرنے والے کنجوس کو ہلاکت دے اور اس کا سارا مال و متاع بر باد کر دے۔یہ دیکھیں کس قدر انذار ہے۔پھر پڑھی لکھیں عورتیں ہیں، بچیاں ہیں جو کسی بھی رنگ میں کوئی بھی کام کر سکتی ہیں، دوسروں کی کسی کام میں بھی مدد کر سکتی ہیں تعلیم میں یا کوئی چیز سکھانے میں تو یہ بھی ان کے لئے صدقہ ہے۔تو اللہ تعالیٰ چاہتا ہے کہ ہر کوئی ہر دوسرے کو کسی نہ کسی رنگ میں فائدہ پہنچا تا رہے تا کہ یہ حسین معاشرہ قائم ہو جائے۔اور خدا تعالیٰ اس کے بدلہ میں اپنے بندوں سے مغفرت کا سلوک فرمانے کا وعدہ کرتا ہے۔