اَلْاَزْھَارُ لِذَوَاتِ الْخِمَارِ یعنی اوڑھنی والیوں کیلئے پھول (جلد سوم حصہ اوّل) — Page 60
الازهار لذوات الخمار جلد سوم حصہ اوّل 60 سالانہ اجتماع ہو کے 2003 لجنہ اماءاللہ سے خطاب پھر فرمایا صبر کرنے والے بنو۔تمہارے اندر وسعت حوصلہ بھی ہونا چاہئے۔صبر بھی ہونا چاہئے۔برداشت کا مادہ بھی ہونا چاہئے۔یہ نہیں کہ ذراسی بات کسی سے سن لی اور صبر کا دامن ہی ہاتھ سے چھوٹ گیا۔فون اٹھایا اور لڑائی شروع ہوگئی۔یا اجلاس میں یا اجتماع کے موقع پر ملیں تو لڑ نا شروع کر دیا کہ تم نے میرے بارے میں یہ باتیں کی ہیں۔یا میری بہن کے بارے میں یہ باتیں کی ہیں یا میرے بھائی کے بارے میں یہ باتیں کی ہیں۔یا بچوں کے بارے میں فلاں بات کی ہے۔تم ہوتی کون ہو، ایسی باتیں کرنے والی ، جب بھی مجھے موقع ملا میں تمہاری ایسی تیسی کر دوں گی! تو یہ جو چیزیں ہیں اب یہاں یورپ کے ملکوں میں بھی آ رہی ہیں مختلف طبقوں سے شہروں سے دیہاتوں سے ایشیا سے لوگ آئے ہیں، مختلف مزاجوں کے لوگ اکٹھے ہو گئے ہیں۔بعض دفعہ تو پہلوں میں سے بھی بعض مثالیں ہیں۔صرف یہ نہیں کہ نئے آنے والوں میں سے ہیں۔بہر حال بعض دفعہ چاہے یہ تھوڑی تعداد میں ہی ہوں ، چند ایک ہی ہوں، ایسے لوگوں کو یہ یادرکھنا چاہے کہ اپنے ملک میں تو شاید آپ کی یہ برائیاں چھپ جائیں لیکن یہاں آکر نہیں چھپ سکتیں۔تو ان برائیوں کو ختم کرنے کی کوشش کریں۔ہر وقت ذہن میں رکھیں کہ آپ اب حضرت اقدس مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کی جماعت سے منسوب ہوچکی ہیں۔آپ کے اخلاقی معیا ر اب بہت بلند ہونے چاہئیں۔حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی تعلیم کو ہمیشہ سامنے رکھیں کہ اگر جماعت میں رہنا ہے تو اعلیٰ اخلاق بھی دکھانے ہوں گے ورنہ تو کوئی فائدہ نہیں۔حضرت مسیح موعود نے اس کی مثال دی ہے کہ اس کی ایسی مثال ہے جس طرح درخت کی سوکھی شاخ جس کو کوئی اچھا مالی یا مالک برداشت نہیں کرتا بلکہ اس سوکھی شاخ کو کاٹ دیتا ہے۔بے صبری کا مظاہرہ کرنا بھی سخت منع ہے پھر اسی لئے بے صبری کا مظاہرہ ہوتا ہے بعض دفعہ کوئی نقصان ہو جائے تو رونا دھونا اور پیٹنا شروع ہو جاتا ہے، یہ بھی سخت منع ہے۔چاہے مالی نقصان ہو، جانی نقصان ہو۔الحمد للہ جماعت احمدیہ میں اکثر مائیں اپنے بچوں کے ضائع ہونے پر بڑے صبر کا مظاہرہ کرتی ہیں۔جان جانے پر بھی بڑے صبر کا مظاہرہ کرتی ہیں۔لیکن کچھ شور مچانے والی ، رونے پیٹنے والی بھی ہوتی ہیں تو ان کو بھی بہر حال صبر کا