اَلْاَزْھَارُ لِذَوَاتِ الْخِمَارِ یعنی اوڑھنی والیوں کیلئے پھول (جلد سوم حصہ اوّل)

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 59 of 377

اَلْاَزْھَارُ لِذَوَاتِ الْخِمَارِ یعنی اوڑھنی والیوں کیلئے پھول (جلد سوم حصہ اوّل) — Page 59

الازھار لذوات الخمار جلد سوم حصّہ اوّل برائیاں دور ہو گئیں۔59 سالانہ اجتماع یو کے 2003 لجنہ اماءاللہ سے خطاب تو جب کسی موقع پر آپ سچ بول رہی ہوں گی اور بیچ کا پرچار کر رہی ہوں گی تو پھر اس میں کس قدر برکتیں ہوں گی۔بعض دفعہ چھوٹی چھوٹی باتیں، ذاتی گھر یلور رنجشیں ، عہدہ داروں کے خلاف جھوٹی شکایتوں کی وجہ بن رہی ہوتی ہیں۔اور جب تحقیق کرو تو پتہ لگتا ہے کہ اصل معاملہ تو دیورانی جٹھانی کا یا نند بھابھی کا یا ساس بہو کا ہے نہ کہ جماعتی مسئلہ ہے۔اس لئے ہمیشہ سچ کو مقدم رکھیں۔سچ کو سب چیزوں سے زیادہ آپ کی نظر میں اہمیت ہونی چاہئے۔کچی گواہی دیں۔اپنے بچوں کو سچ بولنا سکھائیں۔یہاں پر پھر میں وہی بات کہوں گا کہ اس معاشرہ میں بچوں کو سکولوں میں سچ بولنے کی اہمیت بہت زیادہ ہے۔اور اس کی تعلیم بھی دی جاتی ہے سکولوں میں بتایا جاتا ہے کہ سچ بولنا ہے۔تو جب بچہ گھر آتا ہے تو ایسی مائیں یا باپ جن کو نہ صرف سچ بولنے کی خود عادت نہیں ہوتی بلکہ بچوں کو بھی بعض دفعہ ارادةُ یا غیر ارادی طور پر جھوٹ سکھا دیتے ہیں۔مثلاً اس طرح کہ گھر میں آرام کر رہے ہیں۔کوئی عہدہ دار سیکرٹری مال یا صدر یا کوئی مرد یا یا لجنہ کی کوئی عورت کسی کام کے لئے آگئی تو بچہ کو کہہ دیا چلو کہہ دو جاکے کہ گھر میں نہیں ہے۔یہ تو ایک مثال ہے۔اس طرح کی اور بہت ساری چھوٹی چھوٹی مثالیں ہیں۔چاہے یہ بہت تھوڑی ہی تعداد میں ہوں مگر ہمیں یہ تھوڑی تعداد بھی برداشت نہیں کہ سچ پر قائم نہ ہوں۔کیونکہ اس تھوڑی تعداد کے بچے جب اپنے گھر سے غلط بات سیکھ رہے ہوتے ہیں۔ایک تو وہ خود مذہب سے دور جارہے ہوتے ہیں کہ سکول میں تو ہم کو سچ بولنا سکھایا جا رہا ہے اور گھر میں جہاں ہمارے ماں باپ ہمیں کہتے ہیں کہ مذہب اصل چیز ہے، نماز میں پڑھنی چاہئیں، نیک کام کرنے چاہئیں ان کا اپنا عمل یہ ہے کہ ایک چھوٹی سے بات پر، کسی کو نہ ملنے کے لئے جھوٹ بول رہے ہیں۔سیدھی طرح صاف الفاظ میں یہ کیوں نہیں کہہ دیتے کہ میں اس وقت نہیں مل سکتی۔پھر ایسا بچہ اپنے ماحول میں بچوں کو بھی خراب کر رہا ہوتا ہے۔کہ دیکھو یہ کیسی تعلیم ہے کہ ایک ذراسی بات پر میری ماں نے جھوٹ بولا ، یا میرے باپ نے جھوٹ بولا۔تو جب اپنے ماں باپ کے یہ عمل بچہ دیکھتا ہے تو دور ہٹتا چلا جاتا ہے۔اس لئے اپنی نسلوں کو بچانے کے لئے ان باتوں کو چھوٹی نہ سمجھیں اور خدا تعالیٰ کا خوف کریں۔