اَلْاَزْھَارُ لِذَوَاتِ الْخِمَارِ یعنی اوڑھنی والیوں کیلئے پھول (جلد سوم حصہ اوّل) — Page 58
الازهار لذوات الخمار جلد سوم حضہ اوّل 58 سالانہ اجتماع ہو کے 2003 لجنہ اماءاللہ سے خطاب اب کوئی بچہ اس طرح بڑوں کا احترام نہیں کرتا ، بڑا مشکل کام ہے، یہ غلط ہے۔بچوں پر الزام ہے۔جب بچے کو پیار سے سمجھایا جاتا ہے تو بچے وہیں ماں کے سامنے اعتراف کرتے ہیں کہ ٹھیک ہے، یہ بات مجھے یوں نہیں بلکہ اس طرح کرنی چاہئے تھی جس طرح آپ نے سمجھایا۔تو بچوں سے یہاں میری مراد سولہ سترہ سال کی عمر کے بچے ہیں لڑکے، لڑکیاں۔اور یہ نہیں ہے کہ بچوں نے یہ اعتراف میرے سامنے کیا ہے، جب ان کو سمجھایا گیا بلکہ جس نے بھی کسی عہدہ دار نے یا کسی بھی شخص نے جب بچوں کو سمجھایا اس کا فائدہ ہی ہوا ہے۔سیچ اگر پیدا ہو جائے تو تمام بڑی بڑی برائیاں ختم ہو جاتی ہیں پھر اس آیت میں فرمایا ہے کہ سچ بولو اور سچ بولنے کی طرف توجہ دلائی گئی ہے۔سچ ایک ایسی بنیادی چیز ہے کہ اگر یہ پیدا ہو جائے تو تقریباً تمام بڑی بڑی برائیاں ختم ہو جاتی ہیں اور نیکیاں ادا کرنے کی توفیق ملنا شروع ہو جاتی ہے۔تبھی تو آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں جب ایک شخص حاضر ہوا تھا اور اس نے عرض کی کہ میرے اندر اتنی برائیاں ہیں کہ میں تمام کو تو چھوڑ نہیں سکتا مجھے صرف ایک ایسی بیماری یا کمزوری یا برائی کے بارے میں بتائیں جس کو میں آسانی سے چھوڑ سکوں تو آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے جو سب سے زیادہ انسان کی نفسیات اور فطرت کو سمجھنے والے تھے آپ نے فرمایا: ٹھیک ہے تم یوں کرو کہ صرف جھوٹ بولنا چھوڑ دو۔وہ شخص بڑا خوش ہوا کہ چلو یہ تو بڑا آسان کام ہے۔اٹھ کر چلا گیا اور اس وعدے کے ساتھ اٹھا کہ آئندہ کبھی جھوٹ نہیں بولے گا۔رات کو جب اس کو چوری کا خیال آیا، کیونکہ وہ بڑا چور تھا اس کو خیال آیا کہ اگر چوری کرتے پکڑا گیا تو آنحضور صلی اللہ علیہ وسلم کے حضور پیش ہوں گا اور اقرار کرتا ہوں تو سزا ملے گی، شرمندگی ہوگی۔اگر انکار کیا تو یہ جھوٹ ہے۔تو جھوٹ میں نے بولنا نہیں کیونکہ وعدہ کیا ہوا ہے۔تو آخر اسی شش و پنج میں ساری رات گزرگئی اور وہ چوری پر نہ جاسکا۔پھر زنا کا خیال آیا تو پھر یہی بات سامنے آگئی۔شراب نوشی اور دوسری برائیوں کا خیال آیا تو پھر یہی پکڑے جانے کا خوف اور جھوٹ نہ بولنے کا عہد یا د آتا رہا۔آخر ایک دن وہ بالکل پاک صاف ہو کر حاضر ہوا اور کہا کہ اس جھوٹ نہ بولنے کے عہد نے میری تمام برائیاں دور کر دی ہیں۔تو یہ ہے بیچ کی برکت کہ صرف عہد کرنے سے ہی کہ میں سچ بولوں گا