اَلْاَزْھَارُ لِذَوَاتِ الْخِمَارِ یعنی اوڑھنی والیوں کیلئے پھول (جلد سوم حصہ اوّل)

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 56 of 377

اَلْاَزْھَارُ لِذَوَاتِ الْخِمَارِ یعنی اوڑھنی والیوں کیلئے پھول (جلد سوم حصہ اوّل) — Page 56

الازهار لذوات الخمار جلد سوم حصہ اوّل 56 سالانہ اجتماع ہو کے 2003 لجنہ اماءاللہ سے خطاب صدر سے یا فلاں عورت سے جو اس وقت سیکرٹری تربیت ہے، کیونکہ میری بنتی نہیں اس نے ایک موقع پر آج سے اتنے سال پہلے مجھے لوگوں کے سامنے ٹو کا تھایا میری بات نہیں مانی تھی یا میرے بچوں کو نماز کے وقت شرارتیں کرنے پر خاموش کیا تھا، تو اس لئے اب میں اس کی بات نہیں مانوں گی۔یہ فرمانبرداری نہیں ہے۔اور پھر جبکہ اتنی ضد آ جاتی ہے، یہاں تک کہ اب چاہے جو مرضی وہ کہے میں اس کی بات نہیں مانوں گی۔ایسی عورتیں جب نظام کی اطاعت چھوڑ دیتی ہیں تو پھر چاہے عہدیدار بھی نماز میں ٹیڑھی صفوں میں کھڑی عورتوں کو تلقین کرے کہ صفیں سیدھی کر لو آپس کے فاصلے کم کر لو، خلا کم کرو، تو اس کی بات نہیں مانتیں اور پھر ہنسی ٹھٹھے میں اس بات کو اڑا دیتی ہیں۔تو اس کی بات نہ مان کر تم اس کی فرمانبرداری سے باہر نہیں جا رہی بلکہ نظام جماعت کے ایک کارکن کی بات نہیں مان رہی۔اور صرف نظام جماعت کو لا پرواہی کی نظر سے نہیں دیکھ رہی بلکہ خدا اور اس کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کے ایک واضح حکم کی خلاف ورزی کر رہی ہو ، اس کو کم نظر سے دیکھ رہی ہو کیونکہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ہے کہ نماز پڑھتے وقت اپنی صفوں کو سیدھا رکھو، کندھے سے کندھا ملا کر کھڑے ہو۔اگر تم ایسا نہیں کرو گے تو تمہارے درمیان شیطان آکر کھڑا ہو جائے گا۔تو اس طرح اس عہدہ دار کی بات نہ مان کر اس کا تو کچھ ضائع نہیں ہو رہا آپ اپنے درمیان شیطان کو جگہ دے رہی ہیں۔اس طرح سے ایک تو آپ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے حکم کی نافرمانی کر رہی ہیں۔جبکہ دعویٰ یہ ہے کہ انسانوں میں سب سے زیادہ محبت ہمیں اپنے پیارے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے ہے۔محبت کے تقاضے تو اس طرح پورے نہیں ہوتے۔محبت کرنے والے تو اپنے محبوب کی آنکھ کے اشارے کو بھی سمجھتے ہیں۔وہ تو اس کے ایک ارشاد پر اپنی جانیں قربان کرنے والے ہوتے ہیں۔کجا یہ کہ اللہ کے گھر میں ہوں اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے واضح حکم کی پابندی نہ کر رہے ہوں اور یہ سمجھو کہ یہ بات یہیں ختم ہو گئی ؟ نہیں، جب تمہارے بچے تمہارا یہ عمل دیکھیں گے وہ بھی یہی سمجھیں گے کہ اس کی کوئی اہمیت نہیں ہے اور آہستہ آہستہ ان کے دلوں میں سے نہ صرف کسی بھی اچھی بات کہنے والے کا احترام اٹھ جائے گا، بلکہ نظام کے کارکنوں کی اور عہدہ داروں کی عزت بھی ختم ہو جائے گی اور یہ سلسلہ صرف یہ نہیں کہ یہیں رک جائے گا بلکہ اور آگے بڑھے گا اور یہ اولادیں اسلام کی خوبصورت تعلیم سے بھی پرے ہٹنے والی ہو جائیں گی۔نام کے تو احمدی رہیں گے، ایک احمدی گھرانہ میں جو پیدا ہوئے اس لئے احمدی ہیں۔لیکن