اَلْاَزْھَارُ لِذَوَاتِ الْخِمَارِ یعنی اوڑھنی والیوں کیلئے پھول (جلد سوم حصہ اوّل) — Page 50
الازھار لذوات الخمار‘ جلد سوم حضہ اوّل 50 جلسہ سالانہ جرمنی 2003 لجنہ اماءاللہ سے خطاب کے نیکی کرنے میں کوئی تفریق نہیں رکھی گئی ہے اور نہ اُن کو منع کیا گیا ہے کہ وہ نیکی میں مشابہت نہ کریں۔اسلام نے یہ کب بتایا ہے کہ زنجیر ڈال کر رکھو۔اسلام شہوات کی پنا کو کاٹتا ہے۔یورپ کو دیکھو کیا ہو رہا ہے۔لوگ کہتے ہیں کہ کتوں اور کیوں کی طرح زنا ہوتا ہے اور شراب کی اس قدر کثرت ہے کہ تین میل تک شراب کی دکانیں چلی گئی ہیں۔یہ کس تعلیم کا نتیجہ ہے؟ کیا پردہ داری یا پردہ دری کا۔“ ( ملفوظات جلد اوّل، جدید ایڈیشن ، صفحہ 297-298 حضرت اقدس مسیح موعود علیہ السلام، حضرت ام المومنین کو کس حد تک پردہ کرواتے تھے یا کیا طریق تھا۔اس بارہ میں روایت ہے کہ حضرت ام المومنین کی طبیعت کسی قدر ناساز رہا کرتی تھی۔آپ علیہ السلام نے ڈاکٹر صاحب سے مشورہ فرمایا کہ اگر وہ ذرا باغ میں چلی جایا کریں تو کچھ حرج وو رض تو نہیں۔انہوں نے کہا کہ نہیں۔اس پر اعلیٰ حضرت نے فرمایا: دراصل میں تو اس لحاظ سے کہ معصیت نہ ہو کبھی کبھی گھر کے آدمیوں کو اس لحاظ سے کہ شرعاً جائز ہے اور اس پر کوئی اعتراض نہیں رعایت پردہ کے ساتھ باغ میں لے جایا کرتا تھا اور میں کسی ملامت کرنے والے کی پرواہ نہیں کرتا۔حدیث شریف میں بھی آیا ہے کہ بہار کی ہوا کھاؤ۔گھر کی چار دیواری کے اندر ہر وقت بند رہنے سے بعض اوقات کئی قسم کے امراض حملہ کرتے ہیں۔علاوہ اس کے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم حضرت عائشہ ” کو لے جایا کرتے تھے۔جنگوں میں حضرت عائشہ ساتھ ہوتی تھیں۔پردہ کے متعلق بڑی افراط تفریط ہوئی ہے۔یورپ والوں نے تفریط کی ہے اور اب ان کی تقلید سے بعض نیچری بھی اسی طرح چاہتے ہیں۔حالانکہ اس بے پردگی نے یورپ میں فسق و فجور کا دریا بہا دیا ہے۔اور اس کے بالمقابل بعض مسلمان افراط کرتے ہیں کہ کبھی عورت گھر سے باہر نکلتی ہی نہیں حالانکہ ریل پر سفر کرنے کی ضرورت پیش آجاتی ہے۔غرض ہم دونوں قسم کے لوگوں کو غلطی پر سمجھتے ہیں جو افراط اور تفریط کر رہے ہیں“۔( ملفوظات جلد سوم، جدید ایڈیشن ، صفحہ 557-558)