اَلْاَزْھَارُ لِذَوَاتِ الْخِمَارِ یعنی اوڑھنی والیوں کیلئے پھول (جلد سوم حصہ اوّل) — Page 40
الازهار لذوات الخمار جلد سوم حصہ اوّل 40 جلسہ سالانہ جرمنی 2003 لجنہ اماءاللہ سے خطاب حال ہوتا ہوگا۔چنانچہ حضرت عمر نے کچھ عرصہ تو حوصلہ دکھایا پھر آپ نے کہا کہ اچھا بی بی اب کافی ہوگئی ہے، تمہارے پر تو مسجد میں جا کر نمازیں پڑھنا فرض بھی نہیں ہے، گھر میں نمازیں پڑھنے کی اجازت ہے تم کیوں مسجد جاتی ہو۔اور پھر یہ کہا کہ خدا کی قسم ! تم جانتی ہو کہ تمہارا یہ فعل مجھے پسند نہیں ہے۔تو اُن کی بیوی نے جواب دیا کہ واللہ ! جب تک آپ مجھے مسجد جانے سے حکما نہیں روکیں گے میں نہیں رکوں گی۔اور حضرت عمر کو یہ حجرات نہیں ہوئی کہ بیوی کو حکماً مسجد جانے سے روک سکیں۔چنانچہ آخر وقت تک انہوں نے یہ سلسلہ نہیں چھوڑا اور با قاعدہ مسجد میں جا کر نمازیں پڑھتی رہیں۔(صحيح بخارى كتاب الجمعة باب هل على من لا يشهد الجمعة غسل ) ایک بات تو اس سے یہ پتہ چلی کہ اُس زمانے میں عورتوں میں کس قدر عبادتوں کا شوق تھا۔دوسرے یہ کہ فرض سے زیادہ کی عبادت ہم نے خاوند کی مرضی کے بغیر نہیں کرنی۔اگر وہ حکم دے تو رُک جانا ہے۔کجا یہ کہ دنیاوی معاملات میں بھی خاوند کا کہنا نہ مانا جائے۔تو دیکھیں یہ کیسی پیاری سموئی ہوئی، اعتدال والی تعلیم ہے جو اسلام کی تعلیم ہے۔جو عورتیں اپنے خاوندوں کا کہنا ماننے والی ہیں، ان کی خوشی کو اپنی خوشی سمجھنے والی ہیں ، اُن کے بارے میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: حضرت اُم سلمہ روایت کرتی ہیں کہ جو عورت اس حالت میں فوت ہوئی کہ اُس کا خاوند اس سے خوش اور راضی ہے تو وہ جنت میں جائے گی۔(سنن الترمذى باب ما جاء في حق الزوج على المرأة) تو دیکھیں عورت کو اس قربانی کا خدا تعالیٰ کتنا بڑا اجر دے رہا ہے۔ضمانت دے رہا ہے کہ تم اس دنیا میں اپنے گھروں کو جنت نظیر بنانے کی کوشش کرو اور اگلے جہان میں میں تمہیں جنت کی بشارت دیتا ہوں۔پھر بعض عورتوں کو اپنے گھروں اور سسرال کے حالات کی وجہ سے شکوے پیدا ہو جاتے ہیں۔بے صبری کا مظاہرہ کر رہی ہوتی ہیں اور بعض دفعہ تکلیف بڑھنے کے ساتھ رد عمل بھی اس قدر ہو جاتا ہے کہ اللہ تعالیٰ کی طرف بھی شکوے پیدا ہو جاتے ہیں۔تو بجائے شکووں کو بڑھانے کے اللہ تعالیٰ سے دُعا مانگتے ہوئے مسائل کو حل کرنے کی کوشش کرنی چاہئے۔ٹھیک ہے میرے علم میں بھی ہے بعض دفعہ خاوندوں کی طرف سے اس قدر زیادتیاں ہو جاتی ہیں کہ نا قابل برداشت ہو جاتی ہیں۔تو ایسی صورت میں نظام سے، قانون