اَلْاَزْھَارُ لِذَوَاتِ الْخِمَارِ یعنی اوڑھنی والیوں کیلئے پھول (جلد سوم حصہ اوّل)

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 39 of 377

اَلْاَزْھَارُ لِذَوَاتِ الْخِمَارِ یعنی اوڑھنی والیوں کیلئے پھول (جلد سوم حصہ اوّل) — Page 39

الازهار لذوات الخمار جلد سوم حصہ اوّل 39 جلسہ سالانہ جرمنی 2003 لجنہ اماءاللہ سے خطاب صرف یہ نہیں کہ ہر وقت جلال ہی دکھاتا رہے۔عورت کے یہ حقوق ہیں جو اسلام قائم کر رہا ہے۔اور آج مغرب کے آزادی کے علمبر دار عورت کی آزادی کے نعرے لگاتے ہیں جس میں آزادی کم اور بے حیائی زیادہ ہے۔اور بعض لوگ ان کے ان کھو کھلے نعروں کے جھانسے میں آکر آزادی کی باتیں کرنی شروع کر دیتے ہیں۔آزادی تو آج سے چودہ سو سال پہلے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے دلوائی تھی جس کا اندازہ اس حدیث سے ہوتا ہے۔بخاری کی روایت ہے ، حضرت عبداللہ بن عمرؓ سے مروی ہے فرماتے ہیں کہ : ”ہمارا حال یہ ہو گیا تھا کہ ہم اپنے گھروں میں اپنی عورتوں سے بے تکلفی سے گفتگو کرتے ہوئے ڈرنے لگے تھے کہ کہیں یہ شکایت نہ کر دیں۔(صحیح بخاری کتاب النكاح باب الوصاة بالنساء) یعنی اگر زیادتی ہو جائے تو آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس جا کر ہماری شکایت نہ کر دیں۔اب بتائیں ! لا کھ قانون بنانے کے باوجود، کیا اس معاشرے میں مرد، عورت پر ظلم اور زیادتی نہیں کر رہا؟۔اس مغربی معاشرے کو دیکھ لیں۔کیا اب یہ مرد عورتوں پر ظلم و زیادتی کرنے سے باز آگئے ہیں؟۔آپ کا جواب یقینا نفی میں ہوگا۔تو مغرب کی اندھی تقلید کرنے کی ضرورت نہیں ہے۔پھر اسلام نے بعض حالات میں عورتوں کو حکم دیا ہے کہ بعض نفلی عبادتیں یا ایسی عبادتیں جو تمہارے پر اس طرح فرض نہیں جس طرح مردوں پر جیسا کہ پانچ وقت مسجد میں جا کر نماز پڑھنا وغیرہ۔تو جب بھی ایسی صورت ہوتی آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم یہی ارشاد فرماتے تھے کہ وہ اپنے خاوندوں کے حکم کی پابندی کریں۔لیکن بعض دفعہ بعض صحابہ اللہ کے خوف کی وجہ سے اس طرح سختی سے حکم نہیں دیتے تھے لیکن ناپسندیدگی کا اظہار کرتے تھے اور بعض دفعہ بعض صحابیات اپنی آزادی کے حق کو استعمال کرتے ہوئے کہا کرتی تھیں کہ اگر حکم ہے تو مانوں گی ، ورنہ نہیں۔اس بارہ میں ایک حدیث ہے کہ ایک دفعہ حضرت عمررؓ کا اپنی بیوی سے ایک معاملہ میں اختلاف رائے ہو گیا۔اُن کی بیگم حضرت عاتکہ نماز کی بہت دلدادہ تھیں اور نماز با جماعت کی تو ان کو عادت پڑ چکی تھی۔وہ نماز با جماعت کے بغیر رہ ہی نہیں سکتی تھیں۔پس جب پانچ وقت عورت گھر سے نکلے حالانکہ اس پر نماز اس طرح فرض بھی نہ ہو اور پانچ وقت مسجد میں پہنچے تو پیچھے گھر کی ضروریات کا کیا