اَلْاَزْھَارُ لِذَوَاتِ الْخِمَارِ یعنی اوڑھنی والیوں کیلئے پھول (جلد سوم حصہ اوّل)

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 370 of 377

اَلْاَزْھَارُ لِذَوَاتِ الْخِمَارِ یعنی اوڑھنی والیوں کیلئے پھول (جلد سوم حصہ اوّل) — Page 370

الازهار لذوات الخمار جلد سوم حصہ اوّل 370 جلسہ سالانہ قادیان 2005 مستورات سے خطاب ہوں۔ایمان میں یہاں تک کامل ہوں کہ کبھی کوئی ابتلاء یا کوئی امتحان بھی آپ کے پائے ثبات میں لغزش لانے والا نہ ہو۔آپ کو کبھی خدا تعالیٰ سے دور کرنے والا نہ ہو بلکہ اور زیادہ خدا کے قریب لانے والا اور اس کے آگے جھکانے والا ہو۔جیسا کہ میں نے پہلے بھی کہا جیسے بھی حالات ہو جا ئیں آپ کے ایمان میں ہلکا سا بھی جھول نہ آئے۔پھر یہ کہ قانتات ہوں۔فرمانبرداری میں بڑھی ہوئی ہوں۔اللہ تعالیٰ کے حکموں کی فرمانبردار ہوں۔اللہ کے رسول کے حکموں کی اطاعت کرنے والی ہوں۔نظامِ جماعت کی اطاعت کرنے والی ہوں۔جب ہم ایک نظام کے تحت چل رہے ہوں گے تب ہی ہم ترقی کر سکتے ہیں۔تائبات ہوں، تو بہ کرنے والی ہوں، اپنے گزشتہ گنا ہوں اور غلطیوں کی خدا تعالیٰ سے بخشش طلب کر رہی ہوں اور آئندہ اس عزم کا اظہار کر رہی ہوں کہ تمام گزشتہ کوتاہیوں اور غلطیوں سے محفوظ رہنے کی کوشش کریں گی۔صحیح تو بہ تب ہی ہوتی ہے جب تمام بدعات جو مختلف قسم کی عورتوں میں پیدا ہو جاتی ہیں ان سے بچنے کی کوشش کریں گی۔ہمارے اس مشرقی معاشرے میں ہر علاقے کی، ہر قبیلے کی ، ہر خاندان کی مختلف رسومات ہیں جو بعض دفعہ بوجھ بن جاتی ہیں اور یہی بوجھ ہیں جو بدعات ہیں۔ان کی اس طرح پابندی کی جاتی ہے جس طرح یہ دین کا کوئی حصہ بن چکے ہیں حالانکہ دین تو سادگی سکھاتا ہے۔اپنے ایمان کی مضبوطی کے لئے اللہ تعالیٰ کے حضور استغفار کرتے ہوئے ، اس سے مدد مانگنے والی ہوں، عابدات ہوں، اللہ تعالیٰ کی عبادت کرنے والی ہوں اور سب شرکوں سے اپنے آپ کو پاک کرنے والی ہوں۔صالحات ہوں۔روزے رکھنے والیاں اور اپنے روحانی مقام کو بڑھانے کے لئے عبادتوں کی طرف توجہ دینے والیاں ہوں۔پس اگر احمدی عورتیں ان خصوصیات کی حامل ہو جائیں۔ہر لمحہ اور ہر آن صرف خدا تعالیٰ کی ذات ان کے پیش نظر ہو۔ہر قسم کی برائیوں سے بچنے والی ہوں تو انشاء اللہ تعالیٰ ہمیں احمدیت کی آئندہ نسلوں کے روشن مستقبل کی ضمانت ملتی رہے گی۔عورت کو جو مقام دیا گیا ہے کہ اس کے پاؤں کے نیچے جنت ہے صرف اولا دکو حکم نہیں ہے کہ ماں کی عزت کرو اور جنت کماؤ بلکہ ماؤں کو حکم ہے کہ تم بھی ان خصوصیات کی حامل بنو جو اللہ تعالیٰ نے بیان فرمائی ہیں اور اپنی اولاد کی ایسی تربیت کرو کہ وہ جنت میں جانے والی ہو۔اللہ تعالیٰ کے احکامات پر عمل کرنے والی ہو۔خدا تعالیٰ سے تعلق جوڑنے والی ہو۔نظام جماعت کا احترام کرنے والی ہو۔ہر قسم کی لغویات سے پر ہیز کرنے والی ہو۔ایک دوسرے کے حقوق