اَلْاَزْھَارُ لِذَوَاتِ الْخِمَارِ یعنی اوڑھنی والیوں کیلئے پھول (جلد سوم حصہ اوّل)

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 366 of 377

اَلْاَزْھَارُ لِذَوَاتِ الْخِمَارِ یعنی اوڑھنی والیوں کیلئے پھول (جلد سوم حصہ اوّل) — Page 366

الازهار لذوات الخمار جلد سوم حصہ اوّل 366 جلسہ سالانہ قادیان 2005 مستورات سے خطاب کہتا ہے کہ میں ہی تمہیں اولاد دیتا ہوں۔یہ قدرت صرف خدا تعالیٰ کے ہاتھ میں ہے کسی اور کے ہاتھ میں نہیں ہے۔تو یہ ایسے شرک ہیں جو عورتوں میں ان کی طبیعت کی کمزوری کی وجہ سے بہت زیادہ ہوتے ہیں۔جیسا کہ میں نے کہا اب جبکہ جماعت اللہ تعالیٰ کے فضل سے بڑھ رہی ہے بہت سی برائیاں بھی نئے آنے والوں کے ساتھ آجاتی ہیں اس لئے شعبہ تربیت کو بہت زیادہ فعال ہونے کی ضرورت ہے تا کہ کبھی کسی قسم کا کوئی شرک ہمارے اندر داخل نہ ہو۔نئے شامل ہونے والوں کی جو اچھائیاں ہیں، جو خوبیاں ہیں وہ تو لیں لیکن برائیوں کی اصلاح کریں اور ساتھ ساتھ اپنی برائیوں کی بھی اصلاح کریں۔جو نئے احمدی ہورہے ہیں ان کے دل میں یقیناً کوئی نہ کوئی نیکی ہے جس کا اجر اللہ تعالیٰ نے ان کو یہ دیا ہے کہ جماعت میں شامل ہو جائیں۔اس لئے یہ کہنا کہ وہ صرف سرتا پا برائیاں ہی ہیں اور ان میں کوئی نیک نہیں اور ہم سب نیک ہیں یہ بھی سب غلط ہے۔بہت ساری نیکیاں ان میں ہوں گی جو آپ میں یعنی پرانے احمدیوں میں نہیں ہیں۔اور بہت بڑی نیکی ان کی یہ ہے کہ آج کل کے حالات کے باوجود انہوں نے اللہ تعالیٰ کے حکم پر لبیک کہتے ہوئے اس زمانے کے مسیح و مہدی کی آواز کو سنا اور اس کو مانا۔مسلمانوں میں سے بہت سارے شامل ہوئے ہیں جنہوں نے اللہ کے رسول کی آواز پر لبیک کہتے ہوئے اس مسیح و مہدی کو مان کر اس کو سلام پہنچایا۔یقیناً یہ ان کی نیک فطرت ہے جس کی وجہ سے ان کو اللہ تعالیٰ نے یہ توفیق عطا فرمائی ہے۔لیکن جیسا کہ میں نے کہا بعض معاشرے کی برائیاں اثر انداز ہو رہی ہوتی ہیں جن کا بعض دفعہ احساس نہیں ہوتا تو ان کی اصلاح کرنے کی ضرورت ہے، اس پر توجہ دینے کی ضرورت ہے۔اس کے ساتھ ساتھ جو بیعت کروانے والی ہیں، جو تر بیت کرنے والی ہیں ان کو خود بھی اپنی اصلاح کا موقع ملے گا۔ان کو خود بھی ان کے لئے دعاؤں کا موقعہ ملے گا۔جب بھی آپ کسی کی تربیت کریں تو اس کے لئے دعا بھی کریں کہ اللہ تعالیٰ اس کو بہتر رنگ میں اس مقام کے حاصل کرنے کی توفیق عطا فرمائے جس کے لئے اس نے جماعت میں شمولیت اختیار کی ہے اور جب آپ دوسرے کے لئے دعا کر رہی ہوں گی تو یقینا آپ کے دل میں بھی خیال آئے گا کہ میں اپنے جائزے بھی لوں کہ آیا میں اس مقام تک پہنچ گئی ہوں جہاں حضرت مسیح موعود ہمیں دیکھنا چاہتے ہیں۔