اَلْاَزْھَارُ لِذَوَاتِ الْخِمَارِ یعنی اوڑھنی والیوں کیلئے پھول (جلد سوم حصہ اوّل)

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 367 of 377

اَلْاَزْھَارُ لِذَوَاتِ الْخِمَارِ یعنی اوڑھنی والیوں کیلئے پھول (جلد سوم حصہ اوّل) — Page 367

الازھار لذوات الخمار جلد سوم حصّہ اوّل 367 جلسہ سالانہ قادیان 2005 مستورات سے خطاب جھوٹ کو اللہ تعالیٰ نے بتوں کی پلیدی کے ساتھ ملا کر بیان فرمایا ہے پھر اپنے نفس کا شرک ہے، اپنے آپ کو بڑا سمجھنا ہے جس سے تکبر پیدا ہوتا ہے۔کل میں نے اس بارے میں تفصیل سے بتایا تھا کہ چالاکیاں، ہوشیاریاں ، مکر ، فریب، دغا، جھوٹ یہ سب ایسی چیزیں ہیں جو شرک کی طرف لے جانے والی ہیں۔ہے:۔اب جھوٹ ہے۔اللہ تعالیٰ نے اس کو بتوں کی پلیدی کے ساتھ ملا کر بیان فرمایا ہے جیسا کہ فرماتا فَاجْتَنِبُوا الرِّجْسَ مِنَ الْاوْثَانِ وَاجْتَنِبُوا قَوْلَ الرُّوْرِ (الج:31) یعنی پس بتوں کی پلیدی سے اعراض کرو اور جھوٹ کہنے سے بچو۔بعض دفعہ انسان جھوٹ کو اپنی جان بچانے کا ذریعہ سمجھتا ہے۔بعض دفعہ کسی مفاد کے اٹھانے کے لئے غلط بات کہہ دیتا ہے اور سمجھتا ہے کہ یہ معمولی سی غلط بات ہے، یہ جھوٹ نہیں ہے۔حالانکہ حدیث میں آیا ہے کہ آنحضرت نے فرمایا کہ اگر تم مٹھی بند کر کے اپنے بچے کے سامنے رکھتے ہو اور کہتے ہو کہ بتاؤ اس مٹھی میں کیا ہے اور اس میں کچھ نہ ہو، خالی ہاتھ ہو تو یہ بھی ایک جھوٹ ہے۔بیٹوں بیٹیوں کے رشتوں میں جھوٹ سے کام لیا جاتا ہے۔خاص طور پر جولڑ کے والے ہیں بہت غلط بیانی کرتے ہیں اور پھر باہر بچیوں سے رشتے طے ہو جاتے ہیں یا طے کرنے کی کوشش کی جاتی ہے۔یہ میں بتادوں کہ یہ یہاں سے بھی ہوتا ہے اور پاکستان سے بھی۔اور اب ایسے کیسز (casses) میں بہت زیادہ اضافہ ہونے لگ گیا ہے۔بہر حال ہمیں اپنی اصلاح کرنی ہے تا کہ یہ باتیں نہ بڑھیں۔جب لڑکے کو شہریت مل جاتی ہے تو پھر لڑکی پر اور لڑکی کے ذریعے اس کے والدین پر ظلم کرنا شروع کر دیتے ہیں۔ان سے کئی مطالبے شروع ہو جاتے ہیں۔پھر تعلیم کے بارے میں غلط معلومات لڑکی والوں کو دی جاتی ہیں۔رشتے کرنے کے لئے جھوٹ بولے جاتے ہیں۔لڑکے کی نوکری کے بارے میں غلط معلومات لڑکی والوں کو دی جاتی ہیں۔غرض کہ ایسے لوگ ہر قدم پر جھوٹ کا سہارا لیتے ہیں اور عموماً دیکھا گیا ہے کہ اس معاملے میں مائیں بچوں کی زیادہ طرف داری کر رہی ہوتی ہیں۔جب ایسے معاملات جماعت کے پاس آتے ہیں تو پتہ لگتا ہے کہ ماؤں نے ہی غلط بیانی سے کام لیا ہے۔ایسی مائیں ہیں جو شادیاں کروانے کے بعد لڑکوں کے گھروں