اَلْاَزْھَارُ لِذَوَاتِ الْخِمَارِ یعنی اوڑھنی والیوں کیلئے پھول (جلد سوم حصہ اوّل) — Page 362
الازهار لذوات الخمار جلد سوم حصہ اوّل 362 جلسہ سالانہ قادیان 2005 مستورات سے خطاب پہلے کہ معاشرے کی بُرائیاں ہم تک پہنچ سکیں ہم اللہ تعالیٰ کے حضور جھکتے ہوئے ان سے اللہ تعالیٰ کی پناہ میں آنے کی کوشش کریں۔فی زمانہ سب سے بڑی بُرائی جو بظاہر نظر نہیں آتی اور بڑی خاموشی۔انسان پر حملہ کرتی ہے وہ شرک ہے۔حضرت مسیح موعودؓ فرماتے ہیں کہ : یا در ہے کہ حقیقی تو حید جس کا اقرار خدا ہم سے چاہتا ہے اور جس کے اقرار سے نجات وابستہ ہے یہ ہے کہ خدا تعالیٰ کو اپنی ذات میں ہر ایک شریک سے خواہ بت ہو، خواہ انسان ہو، خواہ سورج ہو یا چاند ہو یا اپنا نفس یا اپنی تدبیر اور مکرو فریب ہو، منزہ سمجھنا۔“ (یعنی اللہ تعالیٰ کی جو ذات ہے وہ ہر چیز سے بالا ہے۔یہ جو چھوٹے چھوٹے شرک ہیں یہ حملہ آور نہ ہوں اور فرمایا کہ ) اس کے مقابل پر کوئی قادر تجویز نہ کرنا ، کوئی رازق نہ ماننا، کوئی معز ، مذل خیال نہ کرنا، کوئی ناصر اور مددگار قرار نہ دینا۔اور دوسرے یہ کہ اپنی محبت اُسی سے خاص کرنا۔اپنی عبادت اسی سے خاص کرنا۔اپنا تذلیل اسی سے خاص کرنا۔اپنی امید میں اسی سے خاص کرنا۔اپنا خوف اسی سے خاص کرنا۔“ (سراج الدین عیسائی کے چار سوالوں کا جواب، روحانی خزائن جلد 12 صفحہ 349-350) ہر قسم کے شرک ، لغویات اور تعویذ گنڈوں سے بچنا ہو گا جیسا کہ حضرت مسیح موعود نے فرمایا ہے اب اگر جائزہ لیا جائے تو کتنے ہی بت ہیں جو انسان نے اپنے اندر بنائے ہوئے ہیں۔فرمایا کئی قسم کے شرک ہیں جو تمہیں خدا تعالیٰ سے دور لے جانے کا باعث بنتے ہیں مثلاً بعض لوگ انسان کو اللہ کا شریک بنا لیتے ہیں۔ایک انسان کے آگے اس طرح جھک رہے ہوتے ہیں جیسے نعوذ باللہ وہ خدا ہو۔اس کے آگے پیچھے اس طرح پھرا جا رہا ہوتا ہے جس طرح اس شخص کو خدائی کا درجہ مل گیا ہو۔ہمارے معاشرے میں کم علمی کی وجہ سے پیروں فقیروں کے پاس جا کر ان سے مانگنے کی عادت ہے۔احمدیوں میں تو نہیں ہے لیکن معاشرے میں، مسلمان معاشرے میں بھی اور دوسری جگہ پہ بھی دیکھ لیں بہت زیادہ ہے۔بجائے اس کے کہ خدا تعالیٰ سے مانگا جائے نام نہاد پیروں سے مانگا جاتا ہے۔بعض دفعہ جو بظاہر بڑے منظمند لوگ ہیں، جو علم والے