اَلْاَزْھَارُ لِذَوَاتِ الْخِمَارِ یعنی اوڑھنی والیوں کیلئے پھول (جلد سوم حصہ اوّل)

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 354 of 377

اَلْاَزْھَارُ لِذَوَاتِ الْخِمَارِ یعنی اوڑھنی والیوں کیلئے پھول (جلد سوم حصہ اوّل) — Page 354

الازهار لذوات الخمار جلد سوم حصہ اوّل 354 جلسہ سالانہ ماریشس 2005 مستورات سے خطاب نہیں ہو رہی۔لڑکوں کی طرف سے بھی فکر مند ہیں اور لڑکیوں کی طرف سے بھی فکر مند ہیں۔اپنے بچوں کو معاشرے کے گند سے بچانے کی انہیں یہی ضمانت ہے کہ ان کو نمازوں کی عادت ڈالیں۔اللہ تعالیٰ نے یہ فرما دیا ہے کہ نمازیں ہی ہیں جو معاشرے کی برائیوں سے اور بے حیائیوں سے تمہیں بچائیں گی اور سیدھے راستے پر ڈالیں گی جیسا کہ وہ فرماتا ہے: إِنَّ الصَّلوةَ تَنْهَى عَنِ الْفَحْشَاءِ وَالْمُنْكَرِ (العنکبوت: 46) یقینا نماز تمام بری باتوں اور تمام نا پسندیدہ باتوں سے روکتی ہے۔پس یہ اللہ تعالیٰ کا وعدہ ہے اس لئے اپنی اولا د کونمازوں کی عادت ڈال دیں اگر ان کو نمازوں کی عادت پڑ گئی تو اول تو انشاء اللہ تعالیٰ برائیوں میں نہیں پڑیں گے اور اگر کسی عارضی اثر کے تحت برائی کر بھی لی تو ان نمازوں کی برکت سے سیدھے راستے پر انشاءاللہ آجائیں گے۔آپ کا ملک اب ایک ایسا ملک بن رہا ہے جہاں ٹورازم کو بھی بڑا فروغ حاصل ہو رہا ہے بڑی ترقی حاصل ہو رہی ہے۔اس سے جہاں مجموعی لحاظ سے ملک کو اقتصادی لحاظ سے فائدہ ہوتا ہے وہاں بہت سی برائیاں بھی آجاتی ہیں۔ان مغربی ٹورسٹس (Tourists ) کو دیکھ کر بے حیائیاں بھی پیدا ہوتی ہیں۔اس لئے زیادہ فکر کے ساتھ احمدی ماؤں اور احمدی بچیوں کو اپنی عبادتوں اور نمازوں کی طرف توجہ دینی چاہیے تا کہ ہر قسم کے فحشاء اور برائیوں سے وہ خود بھی اور ان کی اولا دیں بھی محفوظ رہیں۔قرآن کریم کے بڑھنے اور اُس کو سمجھنے کی طرف بھی توجہ کریں اسی طرح احمدی ماؤں اور بچیوں کو میں یہ بھی کہنا چاہوں گا کہ جب آپ نمازوں کی طرف توجہ کریں تو قرآن کریم کے پڑھنے اور اُس کو سمجھنے کی طرف بھی توجہ کریں۔اس سے آپ کو اللہ تعالیٰ کے احکامات کا پتہ چلے گا اور اس سے آپ کو اپنی اولاد کی صحیح تربیت کرنے کے راستے ملیں گے۔پس قرآن کریم کی تلاوت کرنا اور اس کا ترجمہ پڑھنا بھی اللہ تعالیٰ کے حکموں کو سمجھنے کیلئے ضروری ہے۔ایک احمدی مسلمان کے لئے بہت ضروری ہے۔اللہ تعالیٰ نے یہ کتاب آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم پر اس لئے اتاری تھی کہ آپ کے ماننے والے اس پر عمل کریں، اپنی زندگیوں کو اس کے مطابق ڈھالیں اور