اَلْاَزْھَارُ لِذَوَاتِ الْخِمَارِ یعنی اوڑھنی والیوں کیلئے پھول (جلد سوم حصہ اوّل)

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 355 of 377

اَلْاَزْھَارُ لِذَوَاتِ الْخِمَارِ یعنی اوڑھنی والیوں کیلئے پھول (جلد سوم حصہ اوّل) — Page 355

الازهار لذوات الخمار جلد سوم حصہ اوّل 355 جلسہ سالانہ ماریشس 2005 مستورات سے خطاب خدا تعالیٰ کا قرب پانے والے ہوں ،اس کا پیار حاصل کرنے والے ہوں۔حیا اور پردے کے احکام کی پاسداری حضور انور ایدہ اللہ نے فرمایا:۔قرآن کریم کے حکموں میں سے ایک حکم عورت کی حیا اور اس کا پردہ کرنا بھی ہے۔اللہ تعالیٰ نے فرمایا ہے کہ تمہاری زینت نا محرموں پر ظاہر نہ ہو۔یعنی ایسے لوگ جو تمہارے قریبی رشتہ دار نہیں ہیں ان کے سامنے بے حجاب نہ جاؤ۔جب باہر نکلو تو تمہارا سر اور چہرہ ڈھکا ہونا چاہیے، تمہارا لباس حیادار ہونا چاہیے اس سے کسی قسم کا ایسا اظہار نہیں ہونا چاہیے جو غیر کے لئے کشش کا باعث ہو۔بعض لڑکیاں کام کا بہانہ کرتی ہیں کہ کام میں ایسالباس پہننا پڑتا ہے جو کہ اسلامی لباس نہیں ہے۔تو ایسے کام ہی نہ کرو جس میں ایسالباس پہننا پڑے جس سے ننگ ظاہر ہو۔بلکہ یہاں تک حکم ہے کہ اپنی چال بھی ایسی نہ بناؤ جس سے لوگوں کو تمہاری طرف توجہ پیدا ہو۔پس احمدی عورتوں کو قرآن کریم کے اس حکم پر چلتے ہوئے اپنے لباسوں کی اور اپنے پردے کی بھی حفاظت کرنی ہے اور اب جیسا کہ میں نے کہا باہر سے لوگوں کا یہاں آنا پہلے سے بڑھ گیا ہے۔پھر ٹیلی ویژن وغیرہ کے ذریعہ سے بعض برائیاں اور ننگ اور بے حیائیاں گھروں کے اندر داخل ہوگئی ہیں۔ایک احمدی ماں اور ایک احمدی بچی کا پہلے سے زیادہ فرض بنتا ہے کہ اپنے آپ کو ان برائیوں سے بچائے۔فیشن میں اتنا آگے نہ بڑھیں کہ اپنا مقام بھول جائیں ایسی حالت نہ بنائیں کہ دوسروں کی لالچی نظریں آپ پر پڑنے لگیں۔یہاں کیونکہ مختلف مذاہب اور کلچر کے لوگ آباد ہیں اور چھوٹی سی جگہ ہے اس لئے آپس میں گھلنے ملنے کی وجہ سے بعض باتوں کا خیال نہیں رہتا۔لیکن احمدی خواتین کو اور خاص طور پر احمدی بچیوں کو اور ان بچیوں کو جو کالجوں اور یو نیورسٹیوں میں پڑھ رہی ہیں اپنی انفرادیت قائم رکھنی ہے۔ان میں اور دوسروں میں فرق ہونا چاہیے، ان کے لباس اور حالت ایسی ہونی چاہیے کہ غیر مردوں اور لڑکوں کو ان پر بری نظر ڈالنے کی جرات نہ ہو۔روشن خیالی کے نام پر احمدی بچی کی حالت ایسی نہ ہو کہ ایک احمدی اور غیر احمدی میں فرق نظر ہی نہ آئے۔پس یہ احمدی ماؤں کی بھی ذمہ داری ہے کہ وہ اپنے بچوں کی نگرانی کریں، انہیں پیار سے سمجھاتی