اَلْاَزْھَارُ لِذَوَاتِ الْخِمَارِ یعنی اوڑھنی والیوں کیلئے پھول (جلد سوم حصہ اوّل)

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 352 of 377

اَلْاَزْھَارُ لِذَوَاتِ الْخِمَارِ یعنی اوڑھنی والیوں کیلئے پھول (جلد سوم حصہ اوّل) — Page 352

الازهار لذوات الخمار جلد سوم حصہ اوّل 352 جلسہ سالانہ ماریشس 2005 مستورات سے خطاب تو دیکھیں اس زمانے کے امام کی اہلیہ کونمازوں کی حفاظت کی کس قدر فکر تھی اور کیوں نہ یہ فکر ہوتی کیونکہ اب آپ ہی سے خدا تعالیٰ کے وعدوں کے مطابق حضرت مسیح موعود کی نسل چلتی تھی اور یہ وجود جماعت کے لئے بھی بابرکت وجود تھا۔کوئی یہ نہ سمجھے کہ آپ کے پاس خدمت گزار ہوتے تھے، گھر کے کام کرنے کے لئے عورتیں ہوتی تھیں، بچوں کے کام کاج نہیں ہوتے تھے اس لئے وقت پر اور صحیح رنگ میں عبادت کر سکتیں تھیں۔حضرت اماں جان کے بارے میں آتا ہے کہ بہت سے کام آپ خود کیا کرتی تھیں۔بہت سی بچیوں کی شادیوں پر ان کے جہیز بھی خود ہی تیار کرتی تھیں اور کرواتی تھیں۔بہت سی عورتیں آپ کے گھر پر جمع رہتی تھیں۔اور اگر کبھی کسی کو بھوک لگ جاتی اور وہ روٹی کا مطالبہ کرتی اور روٹی پکانے والی اگر کسی کام میں مصروف ہوتی تو آپ خود اپنے ہاتھ سے اس مہمان کو روٹی پکا کر دے دیا کرتی تھیں۔لیکن ان سب باتوں کے باوجود عبادتوں کی طرف پوری توجہ رہی اور کبھی نماز قضاء نہیں کرتی تھیں بلکہ جو واقعہ میں نے بیان کیا ہے اس میں بچوں والی عورتوں کو بھی جو یہ بھتی ہیں کہ بچوں کے کام ہیں یا بچوں کی وجہ سے شاید کہیں کپڑے خراب نہ ہوں یا بچے کسی وجہ سے تنگ نہ کریں، بعد میں نماز پڑھ لیں گے۔آپ نے فرمایا کہ دیکھو یہ بچے اس خدا کا انعام ہیں جس نے تمہیں کہا ہے کہ پانچ وقت میری با قاعدہ عبادت کرو۔پس اگر اس انعام سے بھر پور فائدہ اٹھانا چاہتی ہو تو کبھی اللہ تعالیٰ کی عبادت سے غافل نہ ہو۔ایک تو یہ بھی ہو سکتا ہے کہ تمہارے اس بہانے کی وجہ سے خدا تعالیٰ یہ انعام تم سے واپس لے لے اور تم پھر خالی ہاتھ رہ جاؤ دوسرے جس بچے کے لئے تم نمازیں چھوڑ رہی ہو یا جس بچے کا بہانہ بنا کر تم اللہ کی عبادت سے غافل ہو رہی ہو، یہ بچہ بڑا ہو کر تمہارے لئے ایک زحمت بن جائے۔لڑکا ہے تو غلط کاموں میں ملوث ہو جائے ، بری صحبت میں پڑ جائے ، بڑھاپے میں ماں باپ کا سہارا بننے کی بجائے ان پر ایک بوجھ بن جائے ، والدین کی بدنامی کا باعث بن جائے۔لڑکی ہے تو معاشرے کے زیر اثر آکر گھر سے بغاوت کرنے والی بن جائے۔اپنے بچوں میں دین کی روح قائم رکھنے کا بہترین ذریعہ نماز ہے پس بہترین ذریعہ تمہارے لئے تربیت کا اور اپنے بچوں میں دین کی روح قائم رکھنے کا یہی نماز