اَلْاَزْھَارُ لِذَوَاتِ الْخِمَارِ یعنی اوڑھنی والیوں کیلئے پھول (جلد سوم حصہ اوّل) — Page 351
الازھار لذوات الخمار جلد سوم حصّہ اوّل ذریعہ نماز ہے۔351 جلسہ سالانہ ماریشس 2005 مستورات سے خطاب حضور نے فرمایا:۔پس اگر آپ لوگوں نے اس حقیقت کو پہچان لیا تو اپنے مقصد کو پالیا۔آپ کی نمازیں اور دعائیں آپ کے بچوں کی تربیت کی بھی ضمانت بن جائیں گی۔پس سب سے ضروری چیز یہ ہے کہ اپنی نمازوں کو سنوار کر وقت پر ادا کریں۔آنحضرت ﷺ کی صحابیات نے عبادتوں کی وہ مثالیں قائم کیں کہ مردوں کو بھی پیچھے چھوڑ دیا۔اس زمانے میں بھی حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی بیعت میں آکر عورتوں نے اپنے اندر یہ نمونے قائم کئے۔پابندی نماز کے بارہ میں حضرت اماں جان کی مثال اس وقت میں حضرت ام المومنین نصرت جہاں بیگم صاحبہ کی مثال دیتا ہوں جو حضرت مسیح موعود بادام کی دوسری زوجہ تھیں۔آپ نمازوں کی بڑی پابندی کیا کرتی تھیں، روزانہ صرف نمازوں کی ادائیگی میں پابندی نہیں بلکہ وقت پر ادائیگی کی پابندی فرماتی تھیں اور دوسروں کو بھی اس کی تلقین کرتی تھیں۔آپ کا یہ حال تھا کہ نماز کا وقت ہونے پر وضو کر کے اذان کا انتظار کر رہی ہوتی تھیں اور اذان کے بعد اپنے اردگرد کے بچوں کو کہتیں کہ میں نماز پڑھنے لگی ہوں۔لڑکیو! تم بھی نماز پڑھو۔اس طرح اپنے عملی نمونے سے نصیحت فرماتی تھیں۔تو دیکھیں یہی نصیحت کا سب سے مؤثر ذریعہ ہے۔اگر آپ خود نمازیں نہیں پڑھ ر ہیں یا کوئی اور نیکی کا کام نہیں کر رہیں اور اپنے بچوں کو ہی نصیحت کر رہی ہیں تو اس کا نیک اثر نہیں ہوگا۔“ پھر حضرت اماں جان کے بارے میں ایک اور روایت آتی ہے کہ آپ کس طرح نمازوں کی طرف خاص طور پر توجہ دلایا کرتی تھیں۔ایک خاتون کہتیں ہیں کہ ایک دفعہ میں اپنی لڑکی کی پیدائش کے بعد حضرت اماں جان نصرت جہاں بیگم صاحبہ کی خدمت میں اپنی بچی کو دعا اور برکت کی غرض سے لے کر حاضر ہوئی اور بھی خواتین تھیں اس دوران میں نماز کا وقت ہو گیا حضرت اماں جان نماز پڑھنے کی غرض سے اندر تشریف لے گئیں اور ہم بیٹھے رہے آپ نماز پڑھ کر جب دوبارہ تشریف لائیں تو فرمایا کہ لڑکیو! کیا تم نے نماز ادا کر لی ہے؟ اس پر ہم نے کہا کہ بچے نے پیشاپ یا پاخانہ کیا ہوگا اس لئے گھر چل کر پڑھ لیں گے۔تو اس پر آپ نے فرمایا کہ دیکھو بچوں کے بہانے سے نماز ضائع نہ کیا کرو۔بچے تو خدا تعالیٰ کا انعام ہوتے ہیں۔یہ بہانا بنا کر بچوں کو خدا کی ناراضگی کا موجب نہ بناؤ۔“