اَلْاَزْھَارُ لِذَوَاتِ الْخِمَارِ یعنی اوڑھنی والیوں کیلئے پھول (جلد سوم حصہ اوّل)

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 30 of 377

اَلْاَزْھَارُ لِذَوَاتِ الْخِمَارِ یعنی اوڑھنی والیوں کیلئے پھول (جلد سوم حصہ اوّل) — Page 30

الازهار لذوات الخمار جلد سوم حصہ اوّل 30 جلسہ سالانہ جرمنی 2003 لجنہ اماءاللہ سے خطاب حقوق کے حصول کے بعد مرد جو ظاہراً یہی کہتے ہیں کہ ٹھیک ہے آزادی ہونی چاہئے ، عورت کو بھی آزادی ملنی چاہئے ، حقوق ٹھیک ہیں، لیکن اس پر عموما مرد خوش نہیں ہیں۔کیونکہ یہ تمام ایک رد عمل کے طور پر ہے اور اس طرح جو حقوق لئے جاتے ہیں وہ یقیناً غیر فطری ہوں گے اور جو چیز فطرت سے ٹکراؤ کے بعد ملے وہ کبھی سکون کا باعث نہیں بنتی۔آپ مشاہدہ کر لیں مغرب کی زندگی اس نام نہاد آزادی اور غیر فطری حقوق کے بعد بے سکونی اور بے چینی کی زندگی ہے اور جو کوئی بھی اس غیر فطری طرز عمل کو اختیار کرے گا وہ بے سکون ہی ہوگا۔اس لئے ان کی اس چکا چوند سے اتنی متاثر نہ ہوں کہ یہ بہت آزادی کے علمبر دار ہیں اور پتہ نہیں ان کی کتنی خوبیاں ہیں۔اب اس کے مقابل پر دیکھیں کہ فطرت کے عین مطابق چودہ سو سال پہلے اسلام عورت کو کس طرح حقوق دے رہا ہے۔اس کے مقام کا کس طرح تعین کر رہا ہے اور پھر کس طرح نشاندہی کر رہا ہے۔یہ آیت جوئیں نے تلاوت کی ہے یہ نکاح کے وقت تلاوت کی جاتی ہے۔اس میں اللہ تعالیٰ فرماتا ہے: اے لوگو! مردو! اور عورتو! اللہ تعالیٰ کا تقویٰ اختیار کرو۔اس سے ڈرو اور اس کے احکامات کی تعمیل کرو۔اللہ تعالیٰ کے حقوق بھی ادا کرو اور بندوں کے حقوق بھی ادا کرو۔حقوق اللہ ادا کرنے سے تمہارے دل میں اُس کی خشیت قائم رہے گی تمہارا ذہن اِدھر اُدھر نہیں بھٹکے گا تم دین پر قائم رہوگی ، شیطان تم پر غالب نہیں آسکے گا، حقوق العباد ادا کرو گے۔تم دونوں مردوں اور عورتوں کے لئے یہ حکم ہے۔سب سے پہلے تو یہی ہے کہ عورت اور مرد ایک دوسرے کی ذمہ داریاں ادا کریں۔ایک دوسرے کے حقوق کا خیال رکھیں۔ایک دوسرے کے حقوق کا پاس رکھیں۔اپنے گھروں کو محبت اور پیار کا گہوارہ بنائیں اور اولاد کے حق ادا کریں۔ان کو وقت دیں ان کی تعلیم و تربیت کی طرف توجہ کریں۔بہت ساری چھوٹی چھوٹی باتیں ہوتی ہیں جو ماں باپ دونوں کو بچوں کو سکھانی پڑتی ہیں ، بجائے اس کے کہ بچہ باہر سے سیکھ کر آئے۔ایک دوسرے کے ماں باپ بہن بھائی سے پیار و محبت کا تعلق رکھیں۔ان کے حقوق ادا کریں اور یہ صرف عورتوں ہی کی ذمہ داری نہیں ہے بلکہ مردوں کی بھی ذمہ داری ہے۔اور اس طرح جو معاشرہ قائم ہوگا وہ پیار و محبت اور رواداری کا معاشرہ قائم ہوگا۔اس میں لڑ بھڑ کر حقوق لینے کا سوال ہی نہیں ہے۔تو اس میں ایک دوسرے کے حقوق ادا کرنے کی طرف توجہ ہوگی۔ہر عورت ہر مرد ایک دوسرے کے حقوق ادا کرنے کے لئے قربانی کی کوشش کر رہا ہوگا۔