اَلْاَزْھَارُ لِذَوَاتِ الْخِمَارِ یعنی اوڑھنی والیوں کیلئے پھول (جلد سوم حصہ اوّل) — Page 342
الازھار لذوات الخمار جلد سوم حصّہ اوّل 342 نیشنل اجتماع لجنہ اماءاللہ یو کے 2005 ء اپنے آپ کو باحیا اور با پر دہ بنانا پھر اپنے آپ کو باحیا بنانا ہے۔کیونکہ یہ بھی ایمان کا حصہ ہے۔حیا بھی ایمان کا حصہ ہے۔اللہ تعالیٰ نے عورت کو جس طرح اپنے آپ کو ڈھانپنے کا حکم دیا ہے اس طرح احتیاط سے ڈھانپ کر رکھنا چاہیے۔زینت ظاہر نہ ہو۔حیا کا تصور ہر قوم میں اور ہر مذہب میں پایا جاتا ہے۔آج مغرب میں جو بے حیائی پھیل رہی ہے اس سے کسی احمدی لڑکی کو کسی احمدی بچی کو کبھی متاثر نہیں ہونا چاہیے۔آزادی کے نام پر بے حیائیاں ہیں۔لباس ، فیشن کے نام پر بے حیائیاں ہیں۔اسلام عورت کو باہر پھرنے اور کام کرنے سے نہیں روکتا اُس کو اجازت ہے لیکن بعض شرائط کے ساتھ کہ تمہاری زینت ظاہر نہ ہو بے حجابی نہ ہو۔مرد اور عورت کے درمیان ایک حجاب رہنا چاہیے۔دیکھیں قرآن کریم میں اللہ تعالیٰ نے حضرت موسی کے ذکر میں بیان فرمایا ہے کہ جب وہ اُس جگہ پہنچے جہاں ایک کنویں میں تالاب کے کنارے بہت سے چرواہے اپنے جانوروں کو پانی پلا رہے تھے تو انہوں نے دیکھا کہ ایک طرف دولڑکیاں بھی اپنے جانور لے کے بیٹھی ہیں تو انہوں نے جب اُن سے پوچھا کہ تمہارا کیا معاملہ ہے تو لڑکیوں نے جواب دیا کیونکہ یہ سب مرد ہیں اس لئے ہم انتظار کر رہی ہیں کہ یہ فارغ ہوں تو پھر ہم اپنے جانوروں کو پانی پلائیں۔تو دیکھیں یہ حجاب اور حیا ہی تھی جس کی وجہ سے اُن لڑکیوں نے اُن مردوں میں جانا پسند نہیں کیا۔اس لئے یہ کہنا کہ مردوں میں Mix up ہونے میں کوئی حرج نہیں ہے یا اکٹھی gathering کرنے میں کوئی حرج نہیں ہے اور یہ علیحدگی فضول چیزیں ہیں۔عورت اور مرد کا یہ ایک تصور ہمیشہ سے چلا آ رہا ہے۔عورت کی فطرت میں جو اللہ تعالیٰ نے حیا ر کھی ہے ایک احمدی عورت کو اُسے اور چمکانا چاہیے، اُسے اور نکھارنا چاہیے، پہلے سے بڑھ کر باحیا ہونا چاہیے۔ہمیں تو اللہ تعالیٰ نے تعلیم بھی بڑی واضح دے دی ہے اس لئے بغیر کسی شرم کے اپنی حیا اور حجاب کی طرف ہر احمدی عورت کو ہر احمدی بچی کو ہر احمدی لڑکی کو توجہ دینی چاہیے۔یہاں کا ماحول اس طرف بڑھ رہا ہے۔مغرب میں اگر آزادی میں بڑھیں تو پھر بالکل ہی آزاد ہو جائیں گی۔پھر آخر میں اللہ تعالیٰ نے فرمایا کہ اللہ تعالیٰ کی عبادت کرنے والی بنو۔اگر تم ان خصوصیات کی حامل