اَلْاَزْھَارُ لِذَوَاتِ الْخِمَارِ یعنی اوڑھنی والیوں کیلئے پھول (جلد سوم حصہ اوّل)

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 340 of 377

اَلْاَزْھَارُ لِذَوَاتِ الْخِمَارِ یعنی اوڑھنی والیوں کیلئے پھول (جلد سوم حصہ اوّل) — Page 340

الازهار لذوات الخمار جلد سوم حصہ اوّل 340 نیشنل اجتماع لجنہ اماءاللہ یو کے 2005 ء بات ہے بڑی واضح اور ہر قسم کے ابہام سے پاک ہونی چاہیے۔اللہ تعالیٰ کے وعدے کے مطابق یہ چیز جہاں آپ کی مستقل اصلاح کا باعث بن رہی ہوگی وہاں آپ کو اللہ تعالیٰ کی مغفرت کی چادر میں بھی لپیٹ رہی ہوگی۔صبر کرنا ایک مومن مسلمان عورت کا ایک امتیازی نشان ہے پھر فرمایا کہ صبر کی عادت بھی ہے۔صبر کرنا ایک مومن مسلمان عورت کا ایک امتیازی نشان ہے۔گھروں میں بھی معاشرے میں بھی بہت سے ایسے معاملات ہوتے ہیں جن سے صبر کا دامن ہاتھ سے چھوٹتا ہے۔انسان بے صبرا ہو جاتا ہے۔بعض دفعہ ایسے حالات ہو جاتے ہیں کہ انسان صبر نہیں کر سکتا۔فرمایا کہ ان حالات میں بھی ایک مومنہ عورت کا یہی امتیازی نشان ہے، اُس کی یہی شان ہے کہ وہ صبر کرنے والی ہو۔چھوٹی موٹی سسرال کی زیادتیاں بھی ہیں ان کو بھی برداشت کرنے والی ہو۔خاوند سے اگر کوئی تکلیف پہنچی ہے تو اس پر بھی صبر کرے۔دعا کرے۔اللہ سے دُعا مانگیں اُن کو کسی دوسرے موقعے پر اچھا موڈ دیکھ کر سمجھا دیں لیکن فوراً لڑائی نہیں شروع ہو جانی چاہیے۔اس سے پھر لڑائیاں بڑھتی چلی جاتی ہیں۔اگر اس طرح صبر کرنے والی ہوں گی اور موقع دیکھ کے سمجھانے والی ہوں گی تو گھروں کے ماحول کی بہت سی بدمزگیاں دور ہو رہی ہوں گی اور یہی چیزیں ہیں کہ جو بچوں میں اس تربیت کی وجہ سے جب پیدا ہوں گی تو آئندہ کے حسین معاشرے کی آپ ضمانت بن رہی ہونگی۔عاجزی اختیار کرنا ، صدقہ دینا، روزے رکھنا اور دیگر امتیازی خصوصیات پھر گھر کے ماحول کے علاوہ معاشرے میں بہت سی ایسی باتیں ہو جاتی ہیں جو تکلیف کا باعث بن رہی ہوتی ہیں۔ہمسایوں سے، ماحول سے، دوستوں سے تکلیف پہنچ رہی ہوتی ہے۔بعض دفعہ بعض جماعتی عہدہ داروں سے لجنہ کی عہدہ داروں سے، اجلاسوں میں اجتماعوں میں بعض دفعہ تکلیف پہنچتی ہے۔اگر وہاں صبر نہ کریں تو یا تو موقعے پر لڑائی شروع ہو جاتی ہے یا جب گھر جا کر اپنے خاوندوں سے عزیزوں سے رشتے داروں سے ذکر کریں گی تو پھر اس وجہ سے اس پورے ماحول میں ایک فساد پیدا ہو جاتا ہے۔کئی شکایتیں ایسی آجاتی ہیں کہ بعد میں گھروں میں جا کر لڑائیاں ہورہی ہوتی ہیں۔