اَلْاَزْھَارُ لِذَوَاتِ الْخِمَارِ یعنی اوڑھنی والیوں کیلئے پھول (جلد سوم حصہ اوّل) — Page 329
الازهار لذوات الخمار جلد سوم حصہ اوّل 329 جلسہ سالانہ سویڈن 2005 مستورات سے خطاب کئی ہیں، اپنے گھر والوں سے بھی کٹ گئی ہیں۔ان سے بھی وہ ملنے نہیں دیتے۔پس صرف روپیہ پیسہ دیکھ کر رشتے نہیں کرنے چاہئیں۔اللہ سے دعا کر کے ہمیشہ رشتے ہونے چاہئیں۔اور اسی طرح اور بھی قتل اولاد کی بہت ساری مثالیں ہیں۔جہاں جہاں تربیت میں کمی ہے وہ قتل اولا دہی ہے۔پس ہمیشہ اولاد کی فکر کے ساتھ تربیت کرنی چاہئے اور ان کی راہنمائی کرنی چاہئے۔عورتوں کو اپنے گھروں میں وقت گزارنا چاہئے۔مجبوری کے علاوہ جب تک بچوں کی تربیت کی عمر ہے ضرورت نہیں ہے کہ ملازمتیں کی جائیں۔کرنی ہیں تو بعد میں کریں۔بعض مائیں ایسی ہیں جو بچوں کی خاطر قربانیاں کرتی ہیں حالانکہ پروفیشنل ہیں، ڈاکٹر ہیں اور اچھی پڑھی لکھی ہیں لیکن بچوں کی خاطر گھروں میں رہتی ہیں۔اور جب بچے اس عمر کو چلے جاتے ہیں جہاں ان کو ماں کی فوری ضرورت نہیں ہوتی ، اچھی تربیت ہو چکی ہوتی ہے تو پھر وہ کام بھی کر لیتی ہیں۔تو بہر حال اس کے لئے عورتوں کو قربانی کرنی چاہئے۔اللہ تعالیٰ نے عورت کو جو اعزاز بخشا ہے کہ اس کے پاؤں کے نیچے جنت ہے وہ اسی لئے ہے کہ وہ قربانی کرتی ہے۔جو عورتیں اپنی خواہشات کی قربانی کرتی ہیں ان کے پاؤں کے نیچے بخت ہے عورت میں قربانی کا مادہ بہت زیادہ ہوتا ہے۔جو عورتیں اپنی خواہشات کی قربانی کرتی ہیں ان کے پاؤں کے نیچے جنت ہے۔اگر اس کی بعض خواہشات خاوند کی آمد سے پوری نہ ہوتی ہوں مثلاً جیسے کسی کا زیور یا کپڑے دیکھ کر ، جیسے کہ پہلے بھی میں نے کہا ہے، اگر اس کا دل چاہے کہ میرے پاس بھی ایسا ہی ہو لیکن اپنے بچوں کی تربیت کے لئے وہ قربانی کرتی ہے تو یقیناً اس قربانی کی وجہ سے اس کی اس سوچ کی وجہ سے کہ میرے بچے اچھی تربیت پا جائیں مجھے دنیاوی چیزوں کی ضرورت نہیں ہے، اللہ تعالیٰ اس کی مدد فرماتا ہے۔اور ایسے بچے پھر فرمانبردار اور نیک بیچے بن کر اس دنیا میں بھی ایک جنّت بنا رہے ہوتے ہیں اور نیکیوں پر قدم مارنے اور اعلیٰ اخلاق کی وجہ سے یہ اپنے لئے اگلی دنیا میں بھی جنت بنارہے ہوتے ہیں۔اور یہ مائیں بھی نہ صرف جنتیں بنانے والی ہیں بلکہ جنت کو حاصل کرنے والی بھی ہیں۔یہ تو نہیں ہوسکتا کہ ایک ماں جس کی وجہ سے اس کے بچوں کو جنت مل رہی ہے اس کو اللہ میاں کہے کہ نہیں تم کو جنت نہیں مل سکتی۔اس کو تو اور زیادہ ضمانت دی جارہی ہے کہ تم جنت